اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بیروٹ کلاں کومری میں ضم کرنے کا مطالبہ۔جمعہ کو گرینڈ جرگےکا اعلان

239e0ecc a1a3 4453 a94c 73180a86a5b2

سرکل بکوٹ کے علاقے بیروٹ کلاں کو مری میں ضم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔اس تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوانوں کے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کے روز کہو شرقی کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا جس میں علاقے کے تمام لوگوں کوکسی سیاسی تعلق یا برادری کے امتیاز کے بغیر دعوت دی جائے گی ۔ اس گرینڈ جرگے کو ایک طرح کے ریفرنڈم کی حیثیت حاصل ہوگی۔اگر لوگوں کی اکثریت نے بیروٹ کلاں کو حال ہی میں ضلع کا درجہ حاصل کرنے والے مری میں ضم کرنے کی حمایت کی تو پھر اسے عوامی مطالبہ سمجھتے ہوئے اس مقصد کے حصول کے لیے آخری حد تک جایا جائے گا ۔ اور اگر لوگوں نے اس کے حق میں رائے نہ دی تو یہ سلسلہ وہیں روک دیا جائے گا ۔

4836dc18 afe9 49dc a225 deb598e3a07b 1سرکل بکوٹ سے متعدد بار منتخب ہونے والے نامور سیاستدان سردار مہتاب عباسی

بیروٹ کو مری میں ضم کرنے کی "تحریک ” کے روح رواں اسد گلزرین عباسی نے ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پر لائیو دکھائی جانے والی گفتگو میں کیا جسے انہوں نے "پریس کانفرنس” کا نام دیا ۔ان کے ہمراہ ولیج کونسل بیروٹ کےحال ہی میں منتخب ہونے والے چیئرمین وسیم عباسی کے علاوہ ، بیروٹ کلاں کی ایک اور وی سی جلیہال کے چیئرمین اور کسان کونسلر بھی موجود تھے۔ جب کہ ہم خیال گروپ کے نام سے مقامی سطح پر سیاست کرنے والے سرفراز عباسی نے بھی اس موقع پر پرجوش خطاب کیا جو اس سے پہلے تحصیل سرکل بکوٹ کے قیام کے لیے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
شرکاء نے دعویٰ کیا کہ انھیں ولیج کونسل کہو شرقی کے چیئرمین شاہجہان عباسی کی بھی حمایت حاصل ہے جو کسی نجی مصروفیت کی وجہ سے پریس کانفرنس میں نہیں آ سکے ۔

تحریک کے سرگرم ارکان کون ہیں ؟

بیروٹ کلاں کو مری میں ضم کرنے کی مہم نے اگرچہ باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار نہیں کی ، تاہم یہ نعرہ عوامی سطح پر مقبولیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ آگے چل کر یہ باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کر جائے گا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہم کے سرکردہ لوگ سیاسی طور پر زیادہ تجربہ یا عمر نہیں رکھتے ، اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے یا پھر وہ کم ازکم اس جماعت کے ہمدرد ہیں۔ دوسری طرف سالہا سال بلکہ کئی دہائیوں سے سے علاقے کی سیاست پر راج کرنے والی مسلم لیگ نون کے حامیوں کیایک قابل ذکر تعداد بھی اگرچہ  دل سے اس نعرے کے حق میں ہے ، تاہم اس جماعت کے حامی یا سرکردہ مقامی عہدیدار و کارکن اس نعرے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ناممکن العمل قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک صوبے کے زمین کے ایک ٹکڑے کو دوسرے صوبے میں یوں اٹھا کر شامل نہیں کیا جاسکتا ، اس کے لیے آئینی ترامیم سمیت بہت سارے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ لہذا سرکل بکوٹ کو تحصیل بنانے کی مہم کی حمایت  تو کی جا سکتی ہے ، مگر بیروٹ کلاں کو مری میں شامل کرنے کی مہم کو سنجیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ نواز لیگ کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اور مرتضیٰ جاوید عباسی کے معاون خصوصی عطاء الرحمن عباسی کا کہنا ہے کہ وہ خود سرکل بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے لئے تحریک کا حصہ رہے ہیں ، مگر یونین کونسل بیروٹ کے ایک حصے بیروٹ کلاں کو مری میں شامل کرنے اور دوسرے بڑے حصے بیروٹ خورد کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کی بات غیر سنجیدہ اور ناقابل فہم ہے ۔

b74913f3 96bd 4129 9f94 e66b6c9b1dc1
واضح رہے کہ بیروٹ کلاں کے رہنے والے خاندانوں اور برادریوں کی اکثریت کا آبائی تعلق بیروٹ خود سے ہے، دونوں طرف خاندان آباد ہیں ، لہذا ان کی تقسیم کو فطری قرار نہیں دیا جاسکتا ، مگر دوسری طرف مری میں ضم ہونے کی مہم میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں بیروٹ خورد سے ہمارا تعلق کمزور نہیں ہوگا ۔ ان کا موقف ہے کہ بیروٹ کلاں میں بجلی پنجاب کی یا آئیسکو کی استعمال ہوتی ہے ، سڑکوں کا انتظام پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ دیکھتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے سنگم پر واقع کوہالہ بازار پنجاب کا حصہ ہے تو پھر بیروٹ کلاں کو مری یعنی پنجاب میں شامل کیوں نہیں کیا جاسکتا ؟؟

تاریخی پس منظر کیا ہے ؟

سرکل بکوٹ یا بیروٹ کلاں کو مری میں ضم کرنے کی مہم کے حامی یہ موقف بھی دہراتے ہیں کہ ماضی میں مری سے کوہالہ اور اس کے گردونواح کی پوری پٹی آزاد کشمیر کا حصہ رہی ہے، لہذا غیر فطری تقسیم کے ذریعے اگر آدھے حصے کو پنجاب اور آدھے کو صوبہ سرحد (موجودہ کے پی ) میں شامل کر بھی دیا گیا ہے تو اس کی درستگی ہونا ضروری ہے۔

یہ نعرہ عوامی سطح پر مقبول کیوں ہے ؟

سرکل بکوٹ کا سیاسی اور انتظامی مرکز طویل عرصے سے ایبٹ آباد شہر ہی ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد ،ڈومیسائل، زمینوں کے معاملات ، عدالتی مقدمات سمیت تمام اہم سرکاری کاموں کے لیے طویل سفر کرکے ایبٹ آباد جانا پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی جدید سہولیات کے حامل موجودہ دور میں بھی ایبٹ آباد شہر پہنچنے کے لئے چار سے چھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں مطلوبہ کام نمٹا کر شام کو گھر واپسی آسان نہیں ہوتی ۔۔ انضمام مہم کے حامیوں کا موقف ہے کہ ایبٹ آباد کا چکر لگانے کے لیے ایک آدمی کو اوسطا آٹھ سے دس ہزار روپے درکار ہوتے ہیں  اور پورا دن یا پھر دو دن لگ جاتے ہیں، جب کہ مری شہر آنے جانے میں کل ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے اور دو سے تین سو روپے میں ٹرپ مکمل ہو جاتا ہے۔

ماضی میں بھی تحریک چلی تھی ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکل بکوٹ یابیروٹ کو مری اسلام آباد میں شامل کرنے کی تحریک آج سے 45 برس پہلے اسی کی دہائی میں بھی چلی تھی جب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی ضیاءالحق کابینہ کے وزیر تھے ۔

D3zU7fGXkAAhnrpخاقان عباسی اگرچہ خود تو اس تحریک کے حامی تھے مگر وہ اس کی راہ میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹوں سے واقف تھے۔ چنانچہ انہوں نے بیروٹ کے مقام پر عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہاں کے لوگ اور عوامی نمائندے اتفاق رائے سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو وہ ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی سرکل بکوٹ اور ایبٹ آباد کے منتخب نمائندوں نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی کیوں کہ ایسا ہونے کی صورت میں ان کے حلقے کا بڑا حصہ کٹ جاتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی منتخب نمائندوں کا معاملہ یہی ہے وہ اپنے ووٹروں کی خواہش کے باوجود اپنا ووٹ بینک قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیروٹ کلاں کا مری سے الحاق نہ سہی ، آگے چل کر سرکل بکوٹ یابیروٹ کو تحصیل کا درجہ دینے کی تحریک زور پکڑے گی اور منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاس اس تحریک کی حمایت اور سرپرستی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481