اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں، نئے اضلاع اور تحصیلیں کیوں نہیں؟

705d0a9b 703c 420f bc5c e54dc846ad31

c75c90ff cc5d 49b6 8a2d 8e48f248ef22صاحب مضمون

پنجاب میں چار نئے اضلاع کے قیام کا حکم نامہ جاری ہو چکا ہے جب کہ ایک ضلعے تونسہ شریف کا نوٹی فکیشن بعض انتظامی وجوہ سے موخر رکھا گیا ہے۔ اس فیصلے کو عمومی پذیرائی ملی ہے ۔ نئے اضلاع کے قیام سے متعلقہ خطوں میں جہاں تعمیر و ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے وہاں وطن عزیز کے طول و عرض میں تقسیم ِ مزید پر بحث کے دروازے بھی کھل گئے ہیں ۔پاکستان سرائیکی موومنٹ کی طرف سے سرائیکی صوبہ بنانے کا مطالبہ کافی عرصے سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ پچھلے عرصے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا اعلان کیا جاتا رہا لیکن تاحال اس صوبے کا قیام عمل میں نہیں لاجا سکا ۔ لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کو عام طور پر پسند نہیں کیا جاتا اگرچہ اس سے کہیں کم تر حرکت سابقہ صوبہ سرحد کے نام کو ’’ خیبر پختونخوا ‘‘ سے بدل کر کی جا چکی ہے ۔ جس سے کوئی انتظامی فائدہ تو ہوا نہیں البتہ صوبے کے غیر پختون عوام کے احساس محرومی اور اس کے نتیجے میں ’’ صوبہ ہزارہ ‘‘ کے مطالبے نے زور پکڑا ۔ صوبہ ہزارہ کے حق میں تحریک چلی اور کچھ قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ پنجاب میں نئے اضلاع کے قیام کے حالیہ فیصلے میں ’’کوہ مری ‘‘ کو تحصیل سے بڑھا کر ضلعے کا درجہ دیا گیا ہے ۔ ا س سے مری کے متصل ،ضلع ایبٹ آباد صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سرکل بکوٹ کا یہ مطالبہ بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنا ہے کہ سرکل بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دیا جائے ۔

بعض لوگوں کی یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ سرکل بکوٹ کو انتظامی طور پر مری کے ساتھ  شامل کیا جائے ۔ایک تیسری رائے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سرکل بکوٹ یا بیروٹ کو تحصیل کا درجہ دے کر ضلع مری میں شامل کیا جائے تاکہ ضلع مری کی تحصیلوں کی ضرورت بھی پوری ہو سکے اور عوام کو سہولت بھی مل سکے۔ آخری دونوں صورتوں میں سے کسی ایک کے مطابق بھی فیصلہ آسان امر نہیں ہے ۔ اس لیے کہ ہماری سیاسی قیادت ،کارکنان اور عوام کی اکثریت ، سیاسی و ملی شعور اور بالغ نظری سے محروم ہے تو اس افلاس کی موجودگی میں ایک صوبہ دوسرے کو اپنی زمین کیسے دے گا؟

ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ ہم اجتماعی طور پر جمود کا شکار ہیں، نئے صوبوں کی تشکیل ہو یا نئی اکائیوں کا قیام ، ہم حرکت تبھی کرتے ہیں جب ایسا کیے بغیر کوئی چارہ نہ رہے۔ ہماری موجودہ حد بندیاں ظاہر ہے آسمان سے نازل تو نہیں ہوئیں ۔ یہ انسانی تقسیم ہے جو انسانوں کی سہولت کے لیے وضع کی گئی ہے۔ شرعا اور عقلا ریاست کی بنیاد عوام کی خدمت و سہولت کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ حدیث پاک میں اس حاکم کی سخت مذمت کی گئی ہے جو لوگوں کی ضروریات پوری نہ کرے اور عوام کے لیے اپنے دروازے بند رکھے۔ چونکہ آج کل دنیا میں ادارہ جاتی نظام رائج ہے تو اس میں اداروں تک آسان رسائی عوام کی بنیادی ضروریات میں سے ہے ۔ یہ سہولت بہم پہنچانے کے لیے انتظامی اور اداری تقسیم انتہائی زیریں سطح تک لے جانا ضروری ہے ۔ ہسپتال ، تھانہ کچہری ، عدالت ، تعلیمی بورڈ اور دیگر اداروں تک عوام کی رسائی آسان ہو نی چاہیے کہ وہ بغیر وقت اور سرمائے کے ضیاع کے اپنی شہری و سماجی ضروریات آسانی سے پوری کر سکیں۔

اسلام سے پہلے یمن پر یک اداری نظام تھا یعنی سارے صوبوں کا ایک ہی حاکم تھا ۔ یہ حضرتِ باذان تھے جو شاہ فارس خسرو پرویز کی طرف سے یمن کے گورنر تھے ۔ باذان کو اللہ تعالی نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ وہ مدینہ میں حاضر تو نہ ہو سکے البتہ ایک وفد کے ذریعے دربار رسالت میں اپنے اسلام کی خبر پہنچائی ۔ نبی کریم ﷺ نے باذان کا اسلام قبول کرتے ہوئے انھیں یمن پر حاکم برقرار رکھا ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت باذان رحمۃ اللہ علیہ انتقال فرما جاتے ہیں ۔اب آپ ﷺ نے یمن کو ذیلی صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺنے صنعاء پر تو باذان کے بیٹے شهر بن باذان کو والی بنایا لیکن مأرب کو ایک الگ ولایت بنا کر ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو یہاں کا حاکم مقرر فرمایا۔ صنعاء کے جنوب میں واقع الجند نامی علاقے کو ایک ضلع بنایا اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہاں کا حاکم مقرر فرمایا ۔ ہمدان پر عامر بن شمر الهمدانی کو حاکم بنایا ، عك اور اشعرين کو ایک صوبہ بنا کرطاہر بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ کو یہاں کا حاکم مقرر فرمایا۔ حضرموت وغیرہ پر زياد بن لَبيد رضی اللہ عنہ کو حاکم مقرر فرمایا ۔ اس مثال میں ہمارے لیے راہنمائی ہے کہ علاقوں کی تقسیم کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مصلحت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

نبی کریمﷺ نے ابتدا میں یمن کو متحد رکھنے میں مصلحت جانی تو آپ ﷺ نے سابقہ تقسیم برقر ار رکھی اور جب آپ ﷺ نے تقسیم و تقطیع میں سہولت دیکھی تو آپ ﷺ نے اس کا اہتمام کیا ۔تو ضرورت یہ ہے کہ ماہرین اراضی ، ماہرین قانون و شریعت ، ماہرین سماجیات و عمرانیات اور عوامی و سماجی نمائندوں اور قومی محکموں کے افسران پر مبنی کمیشن بنائے جائیں جو علاقائی تقسیم کے مطالبوں پر انفرادی و اجتماعی مفاد کے اصول کی روشنی میں غور کر کے فیصلہ کریں کہ کون سا مطالبہ قابل عمل و مطابق مصلحت ہے اور پھر ان فیصلوں کے نفاذ میں دیر نہ کی جائے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481