اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ضمنی الیکشن کے نتائج لانگ مارچ ٹال دیں گے ؟

4 2

قومی اسمبلی کے 8 حلقوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے اب تک کے نتائج کے مطابق چار نشستیں  پاکستان تحریک انصاف جبکہ دو پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نام کرلی ہیں ۔
پشاور این اے 34  میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اے این پی کے رہنما اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار حاجی غلام احمد بلور کو شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ غلام احمد بلور اپنی شکست تسلیم کرنے پر فوری طور پر آمادہ نہیں ہیں تاہم انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ اس حلقے میں حکمران اتحاد تحریک انصاف کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہے ۔ اسی طرح چارسدہ این اے 24 سے عمران خان نےاے این پی کے ایمل ولی خان کو،جبکہ  این اے 22 مردان میں جے یو آئی کے امیدوار کو ہرا کر کامیاب ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف ملتان کے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی نے اپنی حریف تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی کو شکست دے دی ہے اور بھاری اکثریت سے منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
اسی طرح کراچی کے ایک حلقے ملیر سے سامنے آنے والے نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالحکیم بلوچ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شکست سے دوچار کر دیا ہے ۔
قومی اسمبلی کے باقی ماندہ پانچ حلقوں میں ابھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ یہاں تحریک انصاف کامیاب ہو جائے ۔جبکہ  یہ سطور لکھے جانے تک تین صوابائی حلقوں کے نتائج آنا بھی باقی ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ تمام نشستیں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے منظور ہونے پر خالی ہوئی تھیں جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان تمام حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم ملتان کے حلقے سے چونکہ شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی الیکشن میں حصہ لے رہی تھیں، اس لیے عمران خان نے یہاں سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مذکورہ حلقے سے تحریک انصاف کی امیدوار کی شکست پارٹی کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہے یہاں اپنی ہی چھوڑی ہوئی سیٹ پر ان کی امیدوار ہار گئی ہے تاہم اس کا ایک بڑا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی اکثریت مہربانو قریشی کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ چونکہ تحریک انصاف میں موروثی سیاست کے خلاف ہونے کا دعوی کر رہی ہے لہذا یہاں سے تحریک انصاف کے کسی دیرینہ کارکن کو ٹکٹ ملنا چاہئے ۔
اب تک کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف دو نشستیں ہار چکی ہے اگر باقی نشستوں پر عمران خان ذاتی طور پر جیت بھی جاتے ہیں ، جس کا واضح امکان بھی ہے، تو وہ ان میں سے کوئی ایک نشست بھی اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ وہ اب تک اپنی آبائی نشست میانوالی سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں کیونکہ سپیکر نے ان کا استعفی تاحال منظور نہیں کیا۔

دوسری طرف ضمنی الیکشن میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے اس بار زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ایک لحاظ سے سردمہری کا رویہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز براہ راست انتخابی مہم کی سرپرستی کرتی رہی ہیں جبکہ حمزہ شہباز بھی انتخابی مہم میں حصہ لیتے رہے ہیں تاہم اس بار ان دونوں میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آیا بلکہ عین موقع پر مریم نواز لندن چلی گئیں جب انتخابی مہم میں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔ اس کے برعکس سترہ جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون نے تمام تر توانائیاں صرف کر دی تھیں۔ تاہم ان انتخابات کے نتائج نواز لیگ کے حق میں نہیں آئے بلکہ یہ تمام سیٹیں تحریک انصاف کی جھولی میں جاگری تھیں ، حالانکہ ان میں سے اکثر نشستوں پر نواز لیگ نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کو ٹکٹ دیے تھے ۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ اس بار مسلم لیگ نون میں ضمنی الیکشن میں دلچسپی نہ لے کر دراصل تحریک انصاف کو ایک طرح کا واک اوور دیا ہے تاکہ عمران خان زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کریں ، اس کے نتیجے میں ان کی دلچسپی پارلیمنٹ میں دوبارہ جانے کی طرف بڑھے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے اپنے ارادوں سے باز آجائیں ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے اپنے تازہ بیان میں لانگ مارچ ترک کرنے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے نئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیتی ہے تو وہ مارچ نہیں کریں گے بصورت دیگر اکتوبر میں ہی لانگ مارچ ہوگا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عمران خان کی جانب سے بڑی لچک  کا مظاہرہ ہے جس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انہیں لانگ مارچ کے حوصلہ افزا نتائج نظر نہیں آ رہے اور وہ کوئی فیس سیونگ چاہتے ہیں ۔ چنانچہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں جاننے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو جہاں ایک طرف عمران خان کو فیس سیونگ مل جائے گی وہی شہباز حکومت کو بھی ایک سال سکون سے گزارنے کا موقع مل جائے گا ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481