اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا“

eac2bade 5588 479a b6ae a9a0390693ec 1

ہم” لیف“ میں ”نکٌوک سٌتے“ ہوئے تھے۔ غالباً پہلی ”سرگی“ کا وقت ہوا ہو گا۔ کٌکڑ حضرات اپنی سٌریلی آوازوں میں ”بانگاں “ دے رہے تھےکہ ہم” پرسیو پرسے“ اٌٹھ بیٹھے کہ خواب ہی ایسا تھا۔ پاکستان میں سوائے مراعات یافتہ طبقے کے کوئی شخص جسے عرف ِعام میں "آدمی” کہا جاتا ہے موجود نہ تھا. سب طورخم کے راستے افغانستان کو پدھار چٌکے تھے۔ شہرِ اقتدار میں "باہرلے” کٌوکاں
ماررہے تھے. پارلیمنٹ میں اٌلو بول رہے تھے. سڑکوں پر گیدڑ پریڈ فرما رہے تھے۔ ہم اپنی ذاتی کنونس ”دوجنگی“ پر معائنے کے لیے نکلے تو دیکھا کی حکمران طبقہ پریشانی کے عالم میں ہے کہ اب وہ حکومت کس پر کریں؟
پڑوسی ممالک نے انسانی ہمدردی کے کارن سرحدیں کھول دیں کہ لوگ جوق درجوق جا رہے ہیں۔ مذہبی عوام افغانستان کی طرف اور سیکولر لوگ بھارت کی طرف۔ کچھ مومنین ایران کی جانب بھی نکل کھڑے ہوئے۔ حکمران ہاتھ باندھے لوگوں کا ”پیر گٌٹھا “ کر رہے ہیں اور اجتماعی غزل گا رہے ہیں

"ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں”

جب کہ عوام جوابا پرانا پنجابی گیت کورس میں گا رہے ہیں

"تیرے نی قراراں سانوں پٹیا”

ہم ”ٹاٹرے باٹرے “ ہوکر سوچ رہے ہیں یہ ایک رات میں کیسے کایا پلٹ گئی۔ یہ شعور صاحب کہاں سے وارد ہوگئے؟ ایک مذہبی جماعت کے مولانا ” کند“ پر کھڑے ہوکر جانے والے لوگوں کو تہتر کے آہین کی افادیت بتارہے ہیں کہ اس میں عوام کے حقوق کا ” مٌچ “ خیال رکھا گیا ہے۔

مسلم لیگ ع ن ق ف غرضیکہ حروف تہجی کی تمام لیگیں منتیں” ترلے“ کرکے بتا رہی ہیں کہ ہمارے بڑوں نے یہ ملک آپ کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں سے لڑ کر بنایا تھا – اسے چھوڑ کر مت جائیں۔

پی پی کے چیرمین غلابی اردو میں محوِکلام ہیں کہ دیکھو جنٹلمین کوئی مسئلہ نہیں۔ جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ فکر ناٹ بھٹو ابھی زندہ ہے۔ تم "ہول سیل” میں مرتے رہے اسی لیے بھٹو ابھی تک زندہ رہا۔ وہ تمھیں ساتھ لے کر ہی مرے گا ! اتنی مایوسی” چنگی ناٹ “حوصلہ رکھیں
یعنی ”بٹہ “رکھیں-

امام العصر مقررِ شعلہ بیان آلِ یوتھ کا دین ایمان جناب ِعمران خان فرمارہے ہیں۔۔۔ "دیکھو جوانو! حوصلہ نہ ہارو. میں نے کرکٹ میں کپ اس لیے نہیں لایا تھا کے تم وطن چھوڑ کر چلے جاؤ۔ دیکھو ہم ابھی حکومت کرنا سیکھ رہے تھے کہ حزب اختلاف نے ”لورچ “ کر کے میچ جیت لیا۔ کوئی بات نہیں۔ میں دھرنے کی ڈیٹ کا اعلان کرنے لگا ہوں۔ آپ لوگ بمعہ فیملی ڈی چوک پر پدھاریں۔”

مگر لوگ کسی کی بھی بات پر کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے
بلکہ آگے سے سو سو ” کرفات پچھ“ رہے تھے کہ۔۔۔۔۔

” دیس دیو مامیو” ہن بس وی کرو. وہ ماسٹر حسین بخش کا مشہورِزمانہ گیت گا رہے تھے

”اساں ہن نہیں رہناں بیگانیاں وطناں تے“

اگر یہ دیس واقعتاً ہمارا بھی ہے تو ہمارے ساتھ پچہترسال سے یہ” کوؔچھ “کیوں ہورہاہے؟ ماچس سے جہاز ہر چیز پر کئی کئی بار ٹیکس عوام دیں اور عیاشی چند لوگ کریں !!! اب یہ نہیں ہوگا۔ حرام خورو ۔۔۔خود کماؤ تے خود کھاؤ۔ "ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم”
ویسے بھی تیس سال افغانی ہمارے بن بلائے ”مزمان“ رہے۔ اب کچھ دن ہم اِن کی میزبانی کامزہ چکھتے ہیں۔

خواب یہاں تک پہنچا تھا کہ ہمارے پڑوسی نے محلے کی مسجد کے "بہت ہی لاؤڈ” سپیکر میں "فدریں کی بانغ” دی اور ہم خواب کی دنیا سے مسائلستان میں مراجعت کر گئے۔

بارگاہ ِایزدی میں حاضر ہونے کی تیاری کرتے ہوئے خیال آیا کہ اپنے خواب کی تعبیر اپنے امام مسجد قاری صاحب سے معلوم کریں۔ لیکن پھر خیال آیا کی وہ بھی کیاسوچیں گے کہ کیسے کیسے فارغ الدماغ لوگ ہمارے مقتدی ہیں۔

سو آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہی تعبیر بتانے کا کشٹ کریں ورنہ ” مڑہیند والے استاداں” کول جٌلنا پیسی۔

d008c32f 4c03 416f 851f 37e92865f5e6شکیل اعوان کوہسار نیوز کے روح و رواں راشد عباسی کے ساتھ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481