اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہر تیسرا پاکستانی خوراک کی قلت کا شکار

a169a9d8 3be6 46bc a1d2 ec630fc05371

سولہ اکتوبر کو خوراک کا عالمی دن ہوتا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم "فوڈ اینڈ ایگلری کلچر آرگنائزیشن” کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے جو انیس سو پینتالیس میں قائم ہوئی تھی۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی پیمانے پر بھوک اور غذائیت کی کمی کے بارے میں آگہی پیدا کرنا ہے۔

یہ دن منانے کا مقصد دنیا کو بھوک، افلاس اور غربت سے نکالنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اضافے کے لیے قابل عمل منصوبے پیش کرنا ہے۔ غذائی قلت کے مسائل میں پاکستان بھی ان بدقسمت ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں عوام کی ایک بڑی اکثریت کو خوراک کی مطلوبہ معیاری مقدار میسر نہیں۔ خوراک انسان کی بنیادی ضرورت ہے اس کے حوالے سے سال میں ایک دن نہیں بلکہ ہر دن غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس طرح کے عالمی دن بھی خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق تین میں سے ایک شخص کو خوراک کی مطلوبہ مقدار میسر نہیں ہے۔ کورونا کے بعد عالمی سطح پر بے شمار مسائل پیدا ہوئے جس کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

تیسری دنیا کا مسئلہ جہاں غربت، جہالت، بے روزگاری اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے وہاں اس سے بھی گھمبیر مسئلہ قحط الرجال ہے۔ تیسری دنیا کو غربت سے نکالنے کے لیے اسے آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکالنا ناگزیر ہے۔ کیونکہ یہ بھوک اور افلاس انھی کے پیدا کردہ ناسور ہیں۔ وہ غریب ممالک کے وسائل پر قابض ہیں اور بھوک سے مرنے والوں کو چند باسی ٹکڑے دان کر کے حاتم طائی بن جاتے ہیں۔

غربت و افلاس کے خاتمے کے لیے غریب ممالک کی معاشی آزادی ضروری ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ملٹائی نیشنل بے اندازہ دولت لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ اگر آپ صرف نیسلے کے پانی اور ملک پیک کے ایک سال کے اعداد و شمار لے لیں تو آپ صفر گن کر بھی ملین، ٹریلین کا حساب نہیں لگا سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خود انحصاری کے فروغ کے لیے ہر باشعور شخص اپنا کردار ادا کرے اور ملٹائی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481