راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے نوجوان بچی کی جان خطرے میں ڈال دی، غفلت اور نااہلی کی انتہاکرتے ہوئے لیڈی ڈاکٹر نے آپریشن کے بعدتولیہ اور بیلٹ مریضہ کے پیٹ میں ہی چھوڑدیا۔
ضلع چکوال میں شعبہ تعلیم سے وابستہ ماسٹر نثار احمد سکنہ مولے نے میڈیا کو بتایا کہ دوماہ قبل انہوں نے اپنی 24سالہ بیٹی عُظمیٰ نثار،جسے پیٹ میں رسولی کی شکایت تھی ،کاچیک اپ بشارت ہسپتال راولپنڈی سے کرایا توڈاکٹرز نے آپریشن کرانے کا مشورہ دیا۔ ہم نے رضامندی ظاہر کی اور لیڈی ڈاکٹر نازش شفانے آپریشن کردیا۔
نثار احمد کے مطابق آپریشن کے دوماہ بعد بھی مریضہ شفایاب نہ ہوئی اوردردو تکلیف زیادہ بڑھنے کی شکایت ہونےلگی تو ہم نے مقامی ہسپتالوں کے بعد ہارٹ انٹرنیشنل ہسپتال راولپنڈی میں اس کا چیک اپ کرایاجس پر انکشاف ہوا کہ پہلے کئے گئے آپریشن کے اوزارتولیہ اور بیلٹ پیٹ میں ہی چھوڑدیئے گئے تھے، جس کی وجہ سے بچی کو پیٹ میں شدید تکلیف ہے جبکہ اس سے پہلے ہم درد کی شکایت کے ساتھ ڈاکٹر نازش کے پاس آئے تو اس نے کچھ دوائیں دے کر واپس بھیج دیا۔ بعد ازاں ہارٹ انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے دوبارہ آپریشن کے بعدتولیہ اور بیلٹ نکالا۔
واضح رہے کہ مریضہاس وقت بھی ہارٹ انٹرنیشنل ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہیں۔مریضہ کے والد نثار احمد جوکہ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں ان کے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے نمناک آنکھوں کے ساتھ بشارت ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نازش کی شفاکی اورغفلت پر وزیر اعظم ،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد،انسانی حقوق اورمحکمہ صحت سے وابستہ اداروں سے فوری انصاف کی فراہمی اور متعلقہ ڈاکٹر نازش شفاکیخلاف قانونی کارروائی کامطالبہ کیا ہے۔
