سنی اتحاد کونسل سے وابستہ پچاس سے زائد علماء اور مفتیانِ کرام نے نشتر ہسپتال ملتان میں انسانی لاشوں کی بے حرمتی پر شرعی اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس میں اس عمل کو غیر انسانی اور اسلامی احکامات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کےلئے قانون سازی کرے اور گھناؤنے فعل کے مرتکب مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔
اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں انسانی لاش کی بے حرمتی حرام ہے۔ میت کا احترام۔عزت و تکریم اور حرمت کو برقرار رکھنا لازم ہے۔۔اسلام انسانی حقوق کا سب سے بڑا پاسدار اور محافظ ہے۔جو دوران جنگ بھی انسانی لاش کی بے توقیری کی اجازات نہیں دیتا۔دین اسلام نے جس طرح انسان کی زندگی میں اس کے ساتھ بدسلوکی اور بے حرمتی کو حرام اور ممنوع قرار دیا ہے اسی طرح بعد از مرگ اس کی حرمت کو برقرار رکھنا بھی لازم ہے۔
اعلامیے کے مطابق کسی بھی انسان کے مرنے کے بعداس کی ہڈی پسلی،نکالنا، توڑنا، تمام چیزیں اشد ترین حرام ہیں،متعدد احادیث مبارکہ میں ہے کہ کسی بھی مردہ کی ہڈی وغیرہ توڑنا، اسکو اذیت دینا ایسا ہی ہے کہ جیسا کسی زندہ کی ہڈی پسلی توڑی جائے یا کسی زندہ ژخص کو اذیت دی جائے،جبکہ میت کو پرندوں اور گِدھوں کے کھانے کے لئے چھوڑ دینا، کسی زندہ انسان کو باندھ کر کسی درندے یا چرند پرند کے آگے چھوڑ دینے کے مترادف ہے،
بیان میں کہا گیا ہے کہ نشتر ملتان ہسپتال کی چھت پر کھلے آسمان تلے، گلتی سٹرتی، پرندوں کی غذا بنتی لاشوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ درندگی اور مردہ ضمیری کی انتہا اور دین و دنیا برباد کر دینے والا فعل ہے۔ایسے واقعات اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔
واضح رہے کہ شرعی اعلامیہ جاری کرنے والوں میں صاحبزادہ علامہ حسین رضا۔ڈاکٹر سلطان سکندر۔حافظ علامہ سلمان علی۔مفتی سعید احمد رضوی۔مفتی حسیب قادری۔مفتی رمضان جامی۔علامہ ارشد جاوید مصطفائی۔علامہ حامد سرفراز۔مفتی ڈاکٹر کریم خان۔مفتی محمد حسن علی قادری۔علامہ ممتاز احمد ربانی۔علامہ قاری محمد سلیم ہمدمی۔الحاج مولانا اکبر نقشبندی،علامہ علی حسن رضوی اور دیگر شامل ہیں۔ یہ اعلامیہ سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر جاری کیا گیا۔
