اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہندواستاد باری باری طلبہ سے افیم کی چسکی لیاکرتے ۔مولانا ظفرعلی خان

df983a84 63cf 475d 9d94 1e428d50064c

مولانا ظفر علی خان معروف مصنف، شاعر اورصحافی تھے اور تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو بابائے اردو صحافت کہا جاتا ہے۔ آپ نےلاہور  سے معروف اردو اخبارزمیندار جاری کیا۔ 1935ء میں مشہور شہید گنج مسجد لاہور کو گوردوارہ بنانے کے خلاف "نیلی پوش تحریک” بھی چلائی۔ذیر نظر مضمون مولانا کی خود نوشت کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے اپنے بچپن کی شرارتوں کو پرلطف انداز میں بیان کیا ہے۔

میں جن دنوں پٹیالا میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔تو ایک رنگین مزاج استاد سکھن لال نامی مجھے پڑھایا کرتے تھے۔یہ استاد صاحب افیمی تھے اور باری باری لڑکوں سے افیم کی چسکی لیا کرتے تھے۔۔
ہر لڑکا اپنی باری آنے پر دو آنے کی افیم لادیتا تھا۔ایک دن سکھن لال صاحب افیم کی چسکی لے کر عجیب ترنگ میں آئے۔فرمانے لگے۔
"دیکھو لڑکو! ایک مصرع بولتا ہوں جو لڑکا دوسرا مصرع کہہ کر شعر پورا کر دے گا اسے ایک چسکی معاف ہوگی۔”
مصرعہ یہ تھا۔ع
"دادرے بے نظیر سکھن لال کیا زبان میں تیری طاقت ہے”
لڑکے خاموش تھے،اچانک میرے منہ سے نکلا۔

"ایڑیاں بھی ہیں تیری لمبی سی تنگڑیوں میں بھی تیری طاقت ہے
تو تو ہوتا کہیں کا چپراسی ،یاں پڑھانا تیری حماقت ہے

کمرہ دبے دبے قہقہوں سے گونج اٹھا ۔سکھن لال زندہ دل آدمی تھا۔ اس کے مصرعہ کے جواب میں دو مصرعہ حاضر تھے، خوش ہوا اور بولا۔
"ظفر علی کسی روز بڑا شاعر بنے گا۔بس دو چسکیاں معاف۔۔!
میں نے بچپن میں مختلف اسکولوں میں تربیت پائی۔پانچویں اور چھٹی جماعت علی گڑھ میں پاس کی۔آٹھویں مشن ہائی اسکول وزیرآباد سے میٹرک کا امتحان الہ آباد اور پنجاب ہر دو یونیورسٹیوں سے پاس کیا۔

میرے والد سراج الدین خان کشمیر کے محکمہ ڈاک میں ایک اچھے عہدے پر کام کرتے تھے۔بعد میں وہ ریاست کے پوسٹ ماسٹر جنرل بھی رہے ہیں۔گلبرگ کا واقعہ ہے ایک دن میں ڈاکخانہ کے باہر ایک بینچ پر بیٹھا تھا کہ انگریز کیپٹن گھوڑے پر سوار وہاں آیا ۔ڈاک خانے کے سامنے وہ گھوڑے پر سے اترا اور پکار کر کہنے لگا۔
"ہیں چھوکرا اس کا لگام پکڑو،ہم ابھی آتا ہے۔میں نے تنک کر جواب دیا”میں تمہارا بالگیر نہیں جو لگام پکڑ کر کھڑا رہوں۔کیپٹن بہت لال پیلا ہوا اور اس نے ریاست کے انگریز ریذیڈنٹ سے شکایت کی کہ ڈاک خانے میں ظفر علی نامی لڑکے نے میری سخت توہین کی ہے۔  مختصر یہ کہ والد صاحب نے کہ سن کر معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ڈاکٹر سر ضیاء الدین مرحوم میرے ہم جماعت تھے،مولانا شوکت علی مجھ سے ایک جماعت آگے تھے اور مولانا محمد علی ایک جماعت پیچھے۔
میری شادی بارہ برس کی عمر میں ہو گئی تھی۔جب بیوی گھر میں آئی تو میں ایک مدت تک یہی سمجھتا رہا یہ کوئی مہمان لڑکی گھر میں آئی ہے۔
کم عمری میں والد صاحب کے ساتھ کشمیر کے دورے پر جایا کرتا تھا تو نماز کے وقت برف توڑ کر اس سے وضو کر لیا کرتا تھا۔
ایک دفعہ حیدرآباد میں ایک ہمسائے لڑکے نے ایک ضد پر کنویں میں چھلانگ لگا دی کہ وہ کالا سوٹ سلوانا چاہتا تھا اور اس کے والدین اسے سلا کر نہیں دیتے تھے۔میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اسے بچانے کے لیے کنویں میں کود پڑا۔لوگ جمع ہوگئے اور ایک رسا لٹکایا گیا ۔پہلے مجھے اوپر کھینچنے لگے ابھی میں نصف اونچائی پر آیا تھا کہ رسا ٹوٹ گیا اور میں دھڑام سے نیچے گر گیا اور سخت چوٹیں آئیں پھر نئے سرے سے رسا ڈال کر ہم دونوں کو نکالا گیا۔بچپن میں مجھے کبڈی اور کرکٹ کا بڑا شوق تھا لیکن یہ شوق بچپن کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔

(ام عزوہ کے قلم سے)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481