لالہ صدیق مرحوم کی تقریب چہلم چار اکتوبر، منگل کو ملکوٹ، تحصیل و ضلع ایبٹ آباد میں منعقد ہوئی۔ لالہ صدیق اپنی ہردل عزیز شخصیت کی وجہ سے نہ صرف ملکوٹ بلکہ ملحقہ گاؤں میں بھی معروف و مقبول تھے۔
ملکوٹ میں مسلکی طور پر دیوبندی مسلک کو ماننے والوں کی اکثریت ہے اس لحاظ سے چہلم کی اس نوعیت کی ملکوٹ میں یہ پہلی تقریب تھی۔ بلکہ اب تو چہلم کی کسی بھی نوعیت کی تقریب ملکوٹ میں شاید ہی منعقد کی جاتی ہو۔
اس تقریب میں موہڑہ شریف اور پوٹھہ شریف سے پیر اورنگزیب فاروقی اور سائیں نصیر سرکار تشریف لائے تھے۔
نعت رسول مقبول لکھنا، پڑھنا اور سننا بڑی سعادت کی بات ہے لیکن ضروری ہے کہ ادب آداب کا خیال رکھا جائے۔ نعت گو اگر اس لالچ میں مدح مصطفی کرے کہ اسے مال و متاع دنیا ہاتھ آئے گا تو اس سے بڑھ کر نعت کی بے ادبی اور کیا ہو گی۔ اس تقریب میں بھی نعت رسول مقبول کی سماعت سے لوگوں کے دلوں کو عشق رسول دیے روشن ہوئے۔ لیکن بیلیں دینے کا عمل انتہائی معیوب تھا۔
مجموعی طور پر بہت کارآمد تقریب تھی۔ مقررین نے لالہ صدیق کی شخصیت کے کئی پنہاں پہلو اجاگر کیے۔ نیز یہ نکتہ بھی عیاں ہوا کہ درد دل رکھنے والے لوگ اس دنیا سے پردہ کرنے کے بعد بھی اپنے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔
اس تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے احباب کی کثیر تعداد میں موجودگی اس بات کی دلیل تھی کہ مسالک و مکاتب فکر کی تقسیم اہم نہیں ہے بلکہ عملی زندگی میں مل کر خیر کو عام کرنا اور شر کو روکنا اصل کام ہے۔
تمام احباب کی زبان کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں نے بھی لالہ صدیق کی کامل مغفرت کے لیے اللہ پاک کے حضور خلوص اور عاجزی کے ساتھ دعا کی۔
