اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری ضلع ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔۔۔ راشد عباسی کا تجزیہ

537c7e68 f011 49c4 b7db 1c78d92ba611

ضلع مری کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے نوٹس جاری ہونے پر اہل کوہسار نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کوہسار سے لوگوں کی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کے اسباب میں تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے فقدان کا ہاتھ تھا۔ مقامی روزگار کے حوالے سے بھی کبھی کسی حکومت نے سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ سیاحت کی مد میں یہاں سے جو ریونیو پیدا ہوتا ہے اگر وہی یہاں کے لوگوں کی فلاح اور علاقے کی ترقی پر خرچ کیا جاتا تو یہ علاقہ آج بڑے شہروں سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔ اب امید کی جاتی ہے کہ ضلع مری بننے سے جہاں لوگوں کو سہولیات ملیں گی وہاں علاقے کی بھی ترقی ہو گی۔ ڈپٹی کمشنر مری کی تعیناتی ہو گی، جو کسی ضلع کا مکمل با اختیار افسر ہوتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں اے سی مری کو روزمرہ معاملات سے ہٹ کر بڑا فیصلہ کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر سے منظوری لینی پڑتی ہے۔ جس کی وجہ سے فوری فیصلہ سازی ممکن نہیں ہوتی، حال آں کہ بعض معاملات میں معمولی تاخیر سے نہ صرف بے حد نقصان ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات اس کی تلافی ہی ممکن نہیں ہوتی۔۔۔ جس طرح انسانی جانوں کا ضیاع!۔

انتظامی حوالوں سے بھی اکثر دفاتر کے افسران کو اجلاسوں میں شرکت کے لیے یا محکمانہ منظوری کے لیے راولپنڈی کا سفر کرنا پڑتا تھا جس میں وقت اور سرمائے کے ضیاع ساتھ ساتھ کام کی تکمیل میں بھی کئی روز کی تاخیر ہو جاتی تھی۔ کیونکہ اگر کوئی خط ہیڈ آفس نے بھیجنا ہے تو وہ اجلاس کے اگلے روز تیار ہو گا۔ پھر اس پر مختلف لوگوں سے منظوری کے بعد دستخط ہوں گے۔ پھر خط ڈائری میں درج ہوگا۔ ساری کارروائی کے بعد خط کو مطلوبہ سٹیشن بھیجنے کا مرحلہ آئے گا جس میں ایک دو دن مزید ضائع ہوں گے۔

ضلع راولپنڈی سات تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ جن میں راولپنڈی، مری، ٹیکسلا، کلر سیداں، کوٹلی ستیاں، کہوٹہ اور تحصیل گوجر خان شامل ہیں۔ اگر رقبے اور محل وقوع کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ضلع راولپنڈی پر بھی کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے اکثر معاملات میں تاخیر کی شکایات عام ہیں۔ ضلع مری بننے سے جہاں کوہ مری کے مسائل حل ہوں گے وہاں ضلع راولپنڈی پر بھی کام کا بوجھ کم ہو گا جس سے یہاں کی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہو گی۔

ضلع کے اندر کئی تحصیلیں شامل ہوتی ہیں۔ کوٹلی ستیاں کیونکہ مری سے متصل ہے اس لیے اسے ضلع مری میں شامل کرنے کے ساتھ دیگر نئی تحصیلیں بنا کر انھیں بھی ضلع مری کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ مقامی آبادی کی نصف صدی کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔

سرکل بکوٹ کے اکثر علاقے اب بھی پتھر کے زمانے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ انگریز کی انتقامی تقسیم کو معطل کر کے اس علاقے کا الحاق مری کے ساتھ کیا جائے۔ اس سلسلے میں بھی ضروری ہے کہ قانونی ماہرین طریقہ کار کی وضاحت کریں کہ یہ الحاق کیسے ممکن ہے۔ اگر غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ مطالبہ ہر لحاظ سے جائز ہے۔ انگریزوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے فارمولے کے ساتھ ساتھ سردار باز خان اور ان کے ساتھیوں کی حریت پسندی اور انگریز دشمنی کی روش کو سامنے رکھتے ہوئے ڈھونڈوں کے ان قبائل کو انتظامی حوالے سے تقسیم کیا تھا۔ ورنہ خاندان، ثقافت، مذہب غرض کسی بھی حوالے سے دیکھا جائے تو ان سارے علاقوں کے لوگ ڈھونڈ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زبان بھی ایک ہی، ڈھونڈی کڑلالی، ہے۔

ضلع کے ایک خود مختار اکائی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس فیصلہ ساز افسران کے ساتھ ساتھ "ریونیو جنریشن” کے ذرائع اور بروقت کام نمٹانے کے لیے فنڈز دستیاب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی مری خوش قسمت سیاحتی مرکز ہے جہاں سارا سال سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ضلع مری کو سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دینی پڑے گی تاکہ ریونیو جنریشن میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ اس سلسلے میں ہوٹلوں کی درجہ بندی اور روم ریٹ کا تعین، ریستورانوں میں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریٹ لسٹ کے مطابق کھانوں کی فراہمی، پارکنگ کے مسئلہ کا فوری اور دیرپا حل، ٹریفک جام کے مسائل کا فوری حل، پینے کے پانی کی فراہمی کا مستقل بندوبست، صحت کی سہولیات کے لیے کم سے کم تین بڑے ہسپتالوں کا قیام اور ملازمتوں میں مقامی آبادی کا زیادہ سے زیادہ کوٹہ جیسے معاملات فوری توجہ کے طالب ہیں۔
۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481