سوات میں بدامنی کے خلاف ایک بار پھر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ چارباغ میں بھی اولسی پاسون کے زیراہتمام ہزاروں افراد سراپا احتجاج بن گئے۔ پی ٹی آئی نے بھی بریکوٹ میں مظاہرہ کیا۔سوات میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد سوات میں سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اورمینگورہ سمیت دیگر علاقوں کے بعد چارباغ میں بھی بدامنی کے خلاف عوام کا جم غفیرسڑکوں پر اُمڈ آیا۔
احتجاجی مظاہرے میں سول سوسائٹی کے افراد کے علاوہ تقریبا” تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے اراکین،وکلاء، طلباء بھی شریک ہوئے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیرمقام بھی احتجاج میں شریک ہوئے جبکہ اس موقع پر پختونخوا میپ کے مختیار خان یوسفزئی،اے این پی کے ایوب خان اشاڑے،پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر امجدعلی،جماعت اسلامی کے نوید اقبال،جے یو آئی کے ارشدخان،صدرسوات بارایسوسی ایشن مشتاق احمد ایڈووکیٹ،شیرشاہ خان بانڈئی خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھاکہ سوات میں بیش بہا قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا ہے اور ہم کسی بھی صورت امن کی فضا کو سپوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سوات میں شدت پسندوں کی دوبارہ آمد سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور پے درپے دہشت گردی کے واقعات سے امن کی فضا پر کارب ضرب لگ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ امن کے قیام کے لئے ہم نے پہلے بھی قربانیاں دیں اور آئندہ بھی اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا
احتجاج کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں سکول کے بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور سفید جھنڈے اورپلے کارڈاٹھائے ہم امن چاہتے ہیں کے نعرے لگارہے تھے۔ علاوہ ازیں بریکوٹ میں تحریک انصاف نے امن کے لئے مظاہرہ کیا بریکوٹ چوک میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزراء ڈاکٹر امجدعلی،محب اللہ خان،رکن قومی اسمبلی سلیم رحمان اور ایم پی اے فضل حکیم اور ایم پی اے فضل مولاسمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا اور کہاکہ سوات میں کسی صورت دامنی اور دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
