اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نشتر اسپتال سے لاشیں ملنے کا معاملہ معمہ بن گیا

nashtar hosptial

  نشتر اسپتال ملتان کی چھت سے گلی سڑی لاشیں ملنے کا معاملہ معمہ بن گیا ہے اور اس حوالے سے پولیس حکام اور اسپتال کے ذمہ داران کے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں جو  زمین پر موجود خوفناک حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ واضح رہے کہ نشترہسپتال ملتان کی چھت پر لاوارث لاشیں پھینکنے اور ان لاشوں کی بے حرمتی کا انکشاف  گذشتہ روز اس وقت ہوا تھا جب گلی سڑی  لاشوں کی خوفناک تصاویرسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جس کے بعد پنجاب حکومت نے  حقائق جاننے کیلئےانکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

 پنجاب حکومت کی ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ یہ ان نامعلوم افراد کی لاشیں تھیں جو مقامی پولیس نے میڈیکل کے طلبہ و طالبات کے تعلیمی مقاصد کے لیے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے کی تھیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ  سوشل میڈیا پرسامنے آنے والی  ویڈیوز اور تصاویر میں متعدد ایسی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں جو نہایت خراب حالت میں ہیں۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرلوگوں نے سوال اٹھایا  کہ یہ کن لوگوں کی لاشیں ہیں اور بے یار و مددگار کیوں پڑی ہیں؟

بی بی سی کے مطابق پنجاب حکومت نے نشتر اسپتال کی انتظامیہ سے تین دن کے اندر جواب طلب کیا تھا تاہم انکوائری مکمل ہونے سے پہلے ہی وزیر اعلیٰ پرویز الہی کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر مونس الہی کی جانب سے سوشل میڈیا پر نشتر میڈیکل کالج کی جانب سےدیا گیا ابتدائی موقف پیش کیا گیا۔ جس میں مونس الٰہی نے بتایا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے اپنے جواب میں وضاحت کی  ہے کہ ’یہ لاشیں نامعلوم افراد کی تھیں جو پولیس نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے اس مقصد سے کی تھیں کہ ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔‘

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ  اناٹومی  وہ مضمون ہے جس میں جسمانی اعضا کے بارے میں علم حاصل کیا جاتاہےاور میڈیکل کالجز میں پہلے دو سال کے دوران ایم بی بی ایس کرنے والے طلبا کو پڑھایا جاتا ہے اس کے برعکس پوسٹ مارٹمکے ذریعے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ڈیڈ باڈی کا معائنہ کیا جاتا ہے اور جسم سے نمونے حاصل کر کے ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

مذکورہ وضاحت میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ  ’پولیس کی جانب سےمزید کہا گیا تھا کہ اگر ضرورت ہو تو ان لاشوں کو ایم بی بی ایس کے طلبا کے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف اسپتال انتظامیہ کے اس موقف نے ایک اور معمہ کھڑا کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ  لاشیں گل سڑ رہی تھیں اور ان سے بدبو آ رہی تھی، اس لیے ان کو فریزر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا اور ان کی حالت ایسی  نہیں تھی کہ انہیں تعلیمی مقاصد کے لیے  استعمال کیا جاتا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ابھی اسپتال کی چھت سے لاشیں ملنے کے واقعے کی وجہ سے سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی کہ اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسپتال کے کمرے سے بھی لاشیں ملی ہیں۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے افسوسناک واقعہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ لاشیں چھت پر پھینک کر غیر انسانی فعل کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ لاشوں کی بے حرمتی کا واقعہ ناقابل برداشت ہے اور کسی بھی معاشرے میں ایسے واقعہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ چھت پر لاوارث لاشوں کو پھینکنے کا واقعہ انسانیت کی تضحیک ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ انکوائری جلد مکمل کرکے ذمہ دارو ں کا تعین کیا جائے اور کڑی سزا دی جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481