اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بدعنوانی کی روک تھام کےلئے 62 قوانین موجود ہیں، ڈائریکٹر نیب کے پی

670e800b 110e 411f 875e 265dc494cc06

ایبٹ آباد (نوید اکرم عباسی )
ڈائر یکٹرقومی احتساب بیورو (نیب)خیبر پختونخوا میاں وقار نے کہا ہے کرپشن معاشرے کیلئےناسور اور زہر ہے ۔جسے ختم کرنے کے لئے مل کر کوشش کرنا ہوگی۔بدعنوانی کی روک تھام کےلئے 62 قوانین موجود ہیں ۔ملک میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے تین ادارے کام کررہے ہیں جس میں انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ،ایف آئی اے اور نیب شامل ہیں ۔کرپشن کے انسداد کے لئے کی جانے والی قوانین سازی میں 62قوانین موجود ہیں۔پاکستان اور انڈیا کا موازنہ کریں تو ان کی برآمدات 27سو ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی 369بلین ڈالر ہین، اسی طرح بھارتی  دفاعی بجٹ 50بلین ڈالر اور پاکستان کا 8 بلین ڈالر ہے انڈیا دنیا کی 5ویں بڑی معیشت بن چکا ہے  حالانکہدونوں ملکوں  نے ایک ساتھ آذادی حاصل کی تھی ۔

میاں وقار نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی پہلے اسمبلی کے ایوان میں کرپشن کو معاشرے کے زہر قرار دیا تھا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  ایبٹ آباد جلال بابا آڈیٹوریم میں منعقدہ آگاہی سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر لیفٹینٹ جنرل (ر) ایاز سلیم رانا ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جبرائیل رضا ،ڈائریکٹر کامسیٹس پروفسیر ڈاکٹر سید معروف شاہ ،ایس پی انوسٹی گیشن اشتیاق احمد خان ،ڈسٹرکٹ خطیب مفتی عبدالواجد ،صدر ایبٹ آباد پریس کلب سردار نوید عالم،مفتی جعفر طیار مقبول اعوان ،پین ایبٹ آباد کے صدر نقیب اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔سیمینار میں ضلعی افسران ،اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد ثقلین سلیم ،سرکاری سکولز کے سربراہان ،محکمہ صحت ،لائیو سٹاک ،محکمہ خوراک ،لوکل گورنمنٹ ،ٹی ایم اے ،ریسکیو 1122سمیت دیگر محکموں کے سربراہان ،سکول کالجزکےاساتذہ ،پروفیسرز،شہری ،خواتین بھی شریک تھیں ،
دیگرمقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں قوانین کی کمی نہیں ہے ۔ان  پر عمل درآمدہونا چاہیئے۔غریب اور امیر کے لئے انصاف کا یکساں نظام ہو ۔ اقوام عالم میں مسلمان کرپشن میں کیوں سب سے آگے ہیں۔اس کے لئے اپنے گریبان میں جھانکنے اور خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

بعض مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں صرف پکڑ ہی پکڑ ہے کسی کو نمایاں کام پر سراہا نہیں جاتا۔مقررین نے کہا کہ محکموں پر محکمے بنانے کے بجائے کرپشن ختم کرنے کے لئے اداروں میں اصلاحات  کی ضرورت ہے ،مقررین کا کہناتھا معاشرے میں گھر کی تربیت اہمیت رکھتی ہے۔ایک فرد کی تربیت بڑی اثر انداز ہو تی ہے جس میں والدین کا کردار جھٹلانا ناممکن ہے ۔مقررین کا کہنا تھا ہر وہ چیز جو میزان سے ہٹ کر کی جائے وہ کرپشن ہے۔دن بدن کرپشن کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیاد کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔معاشرہ بنیادی طور پر سچ اور امانت کو نافذ کرے اور اپنی خواہشات پر قابو پالے تو کرپشن کا تدارک ممکن ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481