بیروٹ(نوید اکرم عباسی )
جماعت اسلامی کے رہنما سنیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 ایک کالا قانون اور خاندانی نظام پر حملہ ھے۔ حکومت اسے فوری طور پر کالعدم قرار دے ۔سیلاب سے کروڑوں انسان متاثرہوئے ہیں۔ 116 اضلاع میں سے 66 بری طرح متاثر ہوئے ہیں 34لاکھ بچے 1لاکھ 28 ہزار خواتین جن کے ہاں چند ماہ تک ولادت متوقع ھے ان کی طبی امداد، ادویات خوراک کی ضرورت ھے ۔
سنیٹر مشتاق احمد خان نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں ضلعی امیر جماعت اسلامی ایبٹ آباد ساجد قریش عباسی کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر سرکل بکوٹ کے گاوں عباسیاں بیروٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ نائب امیر خیبر پختون خواہ عبید الرحمن عباسی ،صدر الخدمت ضلع ایبٹ آباد سردار محمد سرور ،سابق امیر عبدالرزاق عباسی ،مبشرعباسی ،ڈاکٹر آمین عباسی، مفتی عتیق الرحمن عباسی ،مشتاق عباسی، سجاد عباسی، یعقوب خان عباسی ودیگر عمائدین علاقہ بھی موجود تھے ۔
سنیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ سرکل بکوٹ کے 2005 کے زلزلہ سے متاثرہ سکولوں اور مراکز صحت کا اب تک تعمیر نہ ہونا وفاقی و صوبائی حکمرانوں کے لیے باعث شرم ھے ۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب زدگان کی امداد خالص انسانیت کے لیے غیر سیاسی اور شفاف انداز میں حکومت کرے ۔ٹرانس جینڈر ایکٹ ھمارے خاندانی نظام کی تباہی عورت کے شرم وحیا تقدس پر حملہ ھے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اس کو ختم کریں ۔
