اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تحصیل سرکل بکوٹ یا تحصیل مری – فیصلہ عوام کا

705d0a9b 703c 420f bc5c e54dc846ad31

 

ساجد فراز عباسی۔۔۔۔۔🖐

 

کسی بھی صورت میں اتفاق اور جدوجہد کی ضرورت ہے. لیکن تحصیل بکوٹ کے حصول کے لیے اگر کوشش کی جائے تو اس کے لیے پہلے ہی گراؤنڈ ورک کیا جا چکا ہے ۔اعلی حکام پہلے ہی عوامی مطالبات سے آگاہ ہیں۔ میرے خیال سے کسی دوسرے صوبہ میں علاقہ کو ضم کرنے کی کوشش کے بجائے اگر تحصیل بکوٹ کے قیام کیلئے  محنت کی جائے تو وہ بہت آسان اور جلد ممکن ہو سکتی ہے.

دیول مری میں بہت  سی رشتہ داریاں اور دوست احباب موجود ہیں، اگر اپنے علاقہ کو تحصیل مری کے ساتھ ضم کرنے کی جدوجہد کی بھی جائے تو کوئی قباحت نہیں۔ اور کسی کی نیت یا خلوص پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

لیکن….. دل نہیں مانتا

مانا کہ تحصیل کی سہولیات 30 یا 40 منٹ کی دوری پر مری میں موجود ہیں تو اگر سرکل بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دے دیا جائے تو تحصیل کی سہولیات آپ کو اپنے گھر میں بھی میسر ہو سکتی ہیں. اگر جدوجہد کرنی ہے، کوئی تحریک ہی چلانی ہے تو تحصیل بکوٹ کی تحریک کو دوبارہ منظم طریقہ سے شروع کیا جائے جو کچھ دنوں میں بھی ممکن ہو سکتی ہے.
****************

مشکلات اور پسماندگی صرف بیروٹ کلاں کیلئے نہیں بلکہ بیروٹ خورد، یوسی بکوٹ، یوسی ملکوٹ اور یوسی نمبل کے عوام ہم سے  بھی زیادہ متاثر ہیں.
بیروٹ کلاں والوں کا اگر ایبٹ آباد جانے کیلئے 3 گھنٹے اور ہزاروں روپے کا خرچہ ہوتا ہے تو میرا خیال ہے بیروٹ خورد اور دیگر یوسیز کےعوام کو بھی ایبٹ آباد جانے کیلئے اتنا ہی وقت اور پیسے درکار ہیں جتنا کہ بیروٹ کلاں والوں کا.
اس لیے متفقہ طور پر خلوص دل سے اگر تحصیل بکوٹ کیلئے سرکل بکوٹ کی یوسیز پر مشتمل  عوام کی مدد سے اجتماعی جدوجہد کی جائے تو وہ زیادہ متاثر کن اور نتیجہ کن ثابت ہو گی. بشرطیکہ یہ جدوجہد خودغرضی، مفاد پرستی اور نمبر گیم سے پاک ہو.
یا تو تحصیل بکوٹ  کے حصول کی کوشش کی جائے یا پھر پورے سرکل بکوٹ کو مری میں ضم کرنے کیلئے جدوجہد کی جائے. کامل یوسی بیروٹ ، دیگر یوسیز سرکل بکوٹ اور اپنے سارے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
****************

ظاہر ہے یہ فیصلہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ یوسی بیروٹ اور سرکل بکوٹ کے  عوام کو  مل کر کرنا ہے۔۔ ویسے بھی ہم نے پہلے صوبہ ہزارہ بنا لیا ، تحصیل بکوٹ بنا لی اب صوبہ پنجاب میں ضم ہونے جا رہے ہیں۔ پتا نہیں پھر کشمیر باڈر بھی لگتا ہے، کس کو کیا خواب آ جائے۔
اس لیے وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے لوگوں کو منظم کر کے پورے سرکل بکوٹ کی مشاورت سے ایک منظم طریقہ سے تحصیل سرکل بکوٹ کیلئے کوشش کی جائے جو مختصر وقت میں ممکن بھی ہے۔

(نوٹ۔ ذیر نظر موضوع پر اختلافی نکتہ نظر رکھنے والی تحریروں کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا )

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481