آتشزدگی سے متاثر ہونے والے سنٹورس مال اسلام آباد کی انتظامیہ نے جہاں ایک طرف بلڈنگ سیل کیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں یہ الزام عائد کیا ہے کہ حکومت سیاسی انتقامی کاروائی کر رہی ہے ۔کیوںکہ اس بہت بڑے کاروباری مرکز کے مالک آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان ہیں جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔
۔گزشتہ شب آزاد کشمیر سے تحریک انصاف کے مختلف ارکان اسمبلی اور کابینہ کے ارکان نے اسلام آباد پہنچ کر سنٹورس انتظامیہ سے نہ صرف اظہار یکجہتی کیا بلکہ اعلان کیا کہ اگر ان کے بقول حکومت انتقامی کارروائیوں سے باز نہ آئی تو وہ احتجاج اور دھرنے کا آپشن بھی اختیار کر سکتے ہیں ۔ ان میں سے بعض نے الزام لگایا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ یس مقام پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تاریخ دہرانا چاہتے تھے تاہم انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے سینٹورس مال میں آتشزدگی کے بعد یہ کہہ کر مال کو سیل کر دیا تھا کہ آگ اور دھواں بلڈنگ کے تینوں ٹاورز میں پھیل جانے کے باعث یہاں کاروباری اور رہائشی افراد کا رہنا مناسب نہیں ہوگا ۔ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے انتظامیہ نے ایک کمیٹی بھی قائم کردی ہے جو آج لگنے کی وجوہات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ مرتب کرے گی ۔
دوسری طرف سنٹورس مال انتظامیہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ریسٹورنٹ کے کچھ حصے میں لگی جس سے بلڈنگ کے ایک باقی حصوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا مگر حکومت اور انتظامیہ نے سیاسی انتقامی کاروائی کرتے ہوئے پوری عمارت کے تینوں تعوذ کو سیل کر دیا ہے جس کا مقصد اربوں روپے کے کاروبار کو تباہ کرنا ہے۔
آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
دارالحکومت کے نجی مال میں لگنے والی آگ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جو آگ لگنے اور مال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تحقیقات کرے گی۔
اس سات رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں اے سی انڈسٹریل ایریا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر راولپنڈی،سی ڈی اے کے ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول اور ڈایریکٹر انجنئیرنگ شامل ہوں گے۔
کمیٹی آگ لگنے اور پھیلنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے علاوہ بلڈنگ کے اندر فائرسیفٹی سسٹم اور الارم بجنے کی فعالیت کا بھی جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں دفعہ 436 کے تحت ایس ایچ او متین چوہدری کی مدعیت میں درج کیا گیا ۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ نامعلوم افراد نے شاپنگ مال کو نامعلوم وجوہات پر آگ لگائی جس نے پہلے مال کے ٹاور اے کو آگ نے لپیٹ میں لیا، ریسکیو ادارے آگ پر قابو پانے کےلیے مصروف رہے۔ دوسری طرف مال انتظامیہ کے ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمے کا مقصد تنویر الیاس کے کسی قریبی شخص کو پھنسانا ہو سکتا ہے۔
