اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار یونیورسٹی اپنے مقاصد حاصل کر پائے گی؟

9b8649a1 71b7 4e25 9516 9585f214120d

مری (شاہد ممتاز عباسی ) کوہسار یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس پنجاب ہاؤس مری میں 2010 میں پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ (پیف) کے تحت ایک باوقار اور با مقصد ادارہ یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر وائی ڈی سی قائم کیا گیا یہ ادارہ پورے ملک کی یونیورسٹیوں ، کالجوں اور ہائی سکولوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے زیرک طلباء وطالبات کی ذہن و کردار سازی کرتا رہا ہے یہاں سابقہ حکومت میں انتہائی غریب لیکن غیر معمولی ذہین بچوں کو پولیس کی طرف سے اعزازی سلامی بھی دی جاتی تھی انہیں یہاں نہ صرف اعلی قیام و طعام کے ساتھ تفریح کی سہولت دی جاتی تھی بلکہ پاکستان کی نامور اور معیاری یونیورسٹیوں سے ڈاکٹر خواتین و حضرات کو لیکچر کے لیے بلایا جاتا تھا. ایسا با مقصد اور نتیجہ خیز ادارہ نہ صرف قائم رہنا چاہیے بلکہ اس کی سہولتوں اور دائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت ہے

2021 سے یہاں کوہسار یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کے نام پر علم دشمنی کا جو بازار گرم ہوا ہے اس کی جھلک پیش خدمت ہے یہاں کے سابقہ چودہ ملازمین کو کوہسار یونیورسٹی انتظامیہ اور پیف کے مابین تحریری معاہدے کے باوجود تین ماہ کے عارضی معاہدے کے بعد فارغ کر دیا گیا اور نئے معاہدے پر نصف تنخواہیں دی جا رہی ہیں گزشتہ برس شعبہ سیاحت کے صرف گیارہ طلباء و طالبات زیر تعلیم رہے جبکہ نو خواتین اساتذہ کو قیام کی سہولت دی گئی جبکہ 2022 میں یہاں 50 تا 100 افراد کی گنجائش میں شعبہ سیاحت کا صرف ایک طالب علم داخل ہوا ہے ستم بالائے ستم یہ کہ شہباز شریف کے بنائے گئے وائی ڈی سی کے اس تعلیمی بلاک کو تعلیمی سرگرمیاں معطل کر کے اب گیسٹ ہاؤس بنا دیا گیا ہے جو ہوٹل کی طرح کرائے پر چڑھنے کے ساتھ ساتھ وائس چانسلر کی رہائش گاہ بھی بنے گا

عوامی سطح پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کر کے پنجاب ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیا ہے جبکہ در حقیقت اس سے بڑا کوئی جھوٹ ہے ہی نہیں کیونکہ پنجاب ہاؤس کی اصل عمارت اور رقبے میں کوہسار یونیورسٹی کے عملے کو قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں یہ تو اب بھی سابقہ افسر شاہی کے قبضے میں ہے البتہ وائی ڈی سی جیسا بے مثال ادارہ ختم کر کے صرف اور صرف نون لیگ اور شہباز شریف سے سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی مری کے ذمہ داران نے مری آرٹس کونسل میں اعلان کیا تھا کہ یونیورسٹی کیمپس بنانے سے سابقہ تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی خلل نہیں آئے گا وائی ڈی سی کو ختم کرتے وقت یہ عذر بھی پیش کیا گیا کہ ادارے کا مری کے بچوں کو کوئی فائدہ نہیں لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے اگر اس اصول کو ہر شہر کے اداروں پر لاگو کیا جائے تو پاکستان بھر کے شہروں میں رہنے ، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے والے مری کے لوگوں کے لیے وہاں کوئی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ یہ سوچ ہی احساس کمتری ،اور تنگ نظری کی حامل ہے ۔

کیا لارنس کالج اور 12 ڈویژن کی ملک گیر اہمیت سے انکار ممکن ہے؟ حالانکہ اہل مری کو ان کا ایک فی صد سے زیادہ فائدہ نہیں کیا انہیں ختم کیا جا سکتا ہے ملکہ کوہسارکو ہوٹلوں کا شہر بنانے کے بجائے تعلیمی اداروں کا شہر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر پانچ سال بعد ہمیں علماءکرام ، سانئس دان ، ماہرین تعلیم اور دانشور میسر آئیں ، ہمیں بد تہذیب ہوٹل ایجنٹوں ، ڈرائیوروں ، خانساموں اور دھوکے باز پراپرٹی ڈیلروں کی ضرورت نہیں پہلے سے موجود ادارے ، شاہراہیں اور عمارات بہت لوگوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں ان پر سیاسی پارٹیوں اور حکومتی ناموں کے ذریعے تاریخ اور قربانیوں کو مسخ کرنے کے بجائے یونیورسٹی کی اپنی عمارات بنا کر نئے بورڈ نصب کرنے ہوں گے۔

(کوہسار نیوز نے یہ رپورٹ خالصتا” مفاد عامہ کے پیش نظر لگائی ہے، اگر اختلافی نکتہ نظر پر مبنی کوئی موقف سامنے آتا ہے تو اسے خش دلی سے شامل اشاعت کیا جائے گا)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481