اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کرن نگینہ قتل کیس ، سابق صوبائی وزیر ساتھیوں سمیت دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

3 15

 

کرن نگینہ قتل کیس میں سابق صوبائی وزیر جنگلات حاجی ابرار تنولی ، میاں عامر، ساجد، راحیل تنولی اور گل فراز کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر دوبارہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ سول جج 2 ساجدامین نے پولیس کی طرف سے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا پر صرف 2 روز کا ریمانڈ دیا اس موقع پرعدالتی احاطے میں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ کرن نگینہ قتل کیس میں سابق صوبائی وزیر حاجی ابرار اور اس کے ساتھیوں پر اضافی دفعہ 311 ارض الفساد پر 2 روز قبل ایڈیشنل سیشن جج مانسہرہ نےضمانت قبل ازگرفتاری مسترد ہونے پر تمام ملزمان کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا پولیس کی بھاری نفری نے ملزمان کو تھانہ سٹی میں لے جا کر پابند سلاسل کر دیا گیا گزشتہ روز پولیس کی طرف سے مجسٹریٹ آن ڈیوٹی مانسہرہ ساجد آمین کی عدالت میں ملزمان کو پیش کر کے 10 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی جس پر مجسٹریٹ نے صرف 2 روزہ ریمانڈ دیکر ملزمان کو پولیس کے دوبارہ حوالے کر دیا ملزم راحیل کی جانب سے پیروی اسامہ عبید ابرارحسین گلفراز اور ساجد کء جانب سے جنید انور ایڈوکیٹ نے پیروی کی ریمانڈ کی مخالفت میں دلائل دیتے ھوۓ موقف آپنایا کہ اصل مقدمہ قتل کا تھا جس کا مقتولہ کے ورثاء اور ملزمان کے درمیان راضی نامہ ھوچکا ھے جہنوں دیت کی رقم جمع کر لی ھے بینادی طور پر دفعہ 311کا ملزمان پر اطلاق نہیں ھوتا ملزمان سے کسی قسم کی برامد گی مطلوب نہیں ھے اور گزشتہ چوبیس گھنٹے سے ملزمان پولیس کی حراست میں ھیں جس جگہ وقوعہ رونما ھوا ھے پولیس تھانہ سٹی سے چند فر لانگ کے فاصلے پر ھے ان چوبیس گھنٹوں میں پولیس کی کوئی پراگریس نہیں ھے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481