اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہر چیزکیلئے باہر نہیں دیکھنا چاہیے، اپنےلوگوں کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے: آرمی چیف

19 3

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہےکہ ہر چیز کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی کو نہیں دیکھنا چاہیے، اپنے لوگوں کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سندھ کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی اور میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کے ساتھ وقت گزارا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دادو میں  ریسکیو   اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف فوجی جوانوں سے بھی ملاقات کی اور ہدایت کی کہ دادو اور گرد و نواح کے علاقوں میں سیلاب متاثرین کو 5 ہزار خیمے فراہم کیے جائیں ۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے، آج دادو آیا ہوں، میرے خیال میں سب سے زیادہ تباہی اس علاقے میں آئی، باقی علاقوں میں ریسکیو کا کام تو تقریباً ختم ہوچکا پر یہاں ریسکیو کا کام جاری ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے اس وقت پاکستان بھر سے لوگ امداد دے رہے ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے متاثرین کے لیے کافی امداد آرہی ہے، سندھ کے لوگوں سے درخواست ہے کہ آگے آئیں امداد لے کر آئیں، ہر چیز کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی کو نہیں دیکھنا چاہیے، سیلاب متاثرین بہت مشکل میں ہیں ان کے لیے آگے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے اپنا کام شروع کردیاہے، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یو ایس ایڈ کے لوگ بھی آگئے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آگئے ہیں، مختلف ممالک سے پروازیں آنا شروع ہوگئی ہیں، ہر چیز کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی کو نہیں دیکھنا چاہیے، اپنے لوگوں کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریا کے ذریعے آنے والے سیلاب کے لیے ہم ہمیشہ تیار رہے ہیں، جس علاقے میں سال میں 50 ملی میٹر بارش ہوتی ہے وہاں 17سو ملی میٹر بارش ہفتے میں ہوجائے تو اس کے لیے ہماری تیاری نہیں تھی، منچھر جھیل اور حمل جھیل کے درمیان  100کلو میٹرکا فاصلہ ہے  یہ آپس میں مل چکی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481