وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہےکہ عمران خان کے لاڈلےکے تاثر کو ختم کرنے کے لیے قانون کا اطلاق ضروری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے مرتکب شخص کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑا جاسکتا، توہین عدالت کرنے والا شرم محسوس نہ کرے تو کبھی سزا کے بغیر اسے رخصت نہیں کیا گیا۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ طلال چوہدری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کو توہین عدالت پر سزائیں سنائی گئیں، نہال ہاشمی کو جیل بھی بھگتنا پڑی، مجھے بطور وکیل عدالتی تقدس بہت عزیز ہے، طلال چوہدری اور شیخ وسیم کو دوبارہ جواب داخل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بار ایسوسی ایشن کی خواتین نےکہا کہ اس طرح کی زبان ماضی میں کبھی بھی برداشت نہیں کی گئی، خاتون جج کسی کی بیٹی، ماں اور بہن بلکہ پاکستان کی بیٹی ہیں، وزیراعظم کے منصب پر رہنے والے کی گفتگو تو نپی تلی ہونی چاہیے، تمام شہریوں پر قانون کا یکساں اطلاق آئین کا تقاضہ ہے، اس کیس میں اسی معیار کو سامنے رکھا جائےگا جیسے ماضی میں رکھا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ عدالت ان مقدمات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، حیرانگی کی بات ہےکہ عمران خان نے کہا کہ انہیں لگا کہ خاتون مجسٹریٹ ہیں، سیشن جج نہیں، اگر آپ کو معاملے کا اندازہ ہی نہیں تو آپ کو بولنا نہیں چاہیے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ جس کے ساتھ عدالت ہزار آدمی آئیں تو عدالت ان کے سامنے سر جھکائے، جو اکیلا عدالت آئے وہ عدالت کے سامنے سر جھکائے۔
عمران خان کےلاڈلےکے تاثرکو ختم کرنےکیلئے قانون کا اطلاق ضروری ہے، وزیرقانون
