اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عذاب سیلاب اور اصل کرنے کے کام

1 24

تحریر:۔راشد عباسی
اس پہلو سے انکار نہیں کہ من حیث القوم ہمیں اپنے اخلاق، کردار اور انداز فکر کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونے کے لیے ہمیں طویل مدتی منصوبہ بندی، اخلاص نیت، جہد مسلسل اور خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم کام منافقت سے جان چھڑانا ہے۔مجھے اس بات سے شدید اختلاف ہے کہ جب بھی کوئی آفت آتی ہے ہمارے مقتدر ادارے اپنی کوتاہی، غفلت، حرام خوری، تن آسانی اور بے عملی کو "عذاب الٰہی” قرار دے کر توبہ کا فتویٰ دے دیتے ہیں اور خود کو بری الذمہ قرار دلوا دیتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آپ کو جب حالات کا مکمل علم تھا تو فقط میڈیا میں خبریں چھاپنے کے بجائے اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے پروفیشنل انداز میں بچاؤ کی تدابیر کیوں نہ کیں۔ سیلاب کی صورت حال میں کہاں کہاں پانی زیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے، کیا متعلقہ اداروں کے علم میں نہیں تھا؟ کیا اسی فی صد انسانی جانیں آسانی سے بچانا ممکن نہ تھا؟جب سیلاب نے تباہی پھیلا دی تو اس کے بعد بھی امدادی کام عوام اور عوامی تنظیمیں نہایت مشکلات حالات میں اپنی مدد آپ کے تحت کیوں کرتی رہیں؟ حرام خور ادارے کہاں تھے؟ منظم ریسکیو آپریشن کیوں نہ شروع کیا گیا؟ اب بھی پاکستان میں اس ضمن میں کوئی حکومتی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔عوام میں امدادی کام ہر سطح پر ہو رہا ہے۔ شعراء و ادباء اور ادبی تنظیموں نے ثابت کیا ہے کہ وہ احساس اور خدمت کا پیکر ہیں۔ مذہبی تنظیموں نے بھی جان جوکھوں میں ڈال کر مشکل ترین حالات میں انسانی خدمت کی اعلی ترین مثال قائم کی ہے۔ الخدمت نے ہمیشہ کی طرح اپنے آپ اسم با مسمی ثابت کیا ہے۔ "مری” جس کے خلاف پورے پاکستان میں کچھ مہینے پیشتر منفی پروپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ وہاں کے لوگوں کو بدنام کیا گیا۔ وہ لوگ آج الحمد للّہ "مری ڈویلپمنٹ فورم” کے پلیٹ فارم سے خود آفت زدہ علاقوں میں پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔لیکن کیا عوامی فلاحی کام لوگوں کے مسائل کا مستقل حل ہیں؟ ہر گز نہیں۔ فی الحال عوامی خدمت کا جذبہ جوان ہے لوگ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں لیکن جس طرح حکومت وقت نے آئی ایم ایف کی رکھیل کے طور مہنگائی کا طوفان برپا کر کے، بجلی کے بلوں کے ذریعے فقید المثال لوٹ مار کر کے، پیٹرول بم گرا کے، کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ کنٹرول کرنے کی جانب توجہ نہ دے کے، ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے حوالے سے کھلی چھٹی دے کے، ملٹائی نیشنلز کی آزادانہ لوٹ مار پر خاموشی اختیار کر کے مایوس کن صورت حال پیدا کی ہے اس میں عوام کا جذبہ تو سلامت رہ سکتا ہے معاشی استطاعت نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ ایک سوموٹو ایکشن لے۔ جس جس ادارے کے سربراہان کی فرائض سے غفلت ثابت ہو اسے سزائے موت دی جائے تاکہ آئندہ کے لیے یہ حرام خور خدا سے تو نہیں ڈرتے سزا سے ہی ڈر کے اپنے فرائض ادا کرنے کی با دل ناخواستہ کوشش کریں۔ بحالی کے عمل تیز کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت کا فی الفور اجلاس بلا کر فیصلے کیے جائیں اور منظوری دے کر فورا متعلقہ اداروں کو "ٹائم فریم” کے ساتھ "روڈ میپ” دیا جائے. کسی ادارے کی جانب سے فرائض منصبی میں کوتاہی کی سزا واضح طور پر مذکور ہو۔ ہمارے اداروں میں پتہ نہیں کون پتھر دل لوگ بیٹھے ہیں کہ جن کے دل بلبلاتے بچوں، آہ و بکا کرتی ماؤں بہنوں، سطح آب پر تیرتی لاشوں اور سیلابی ریلوں کی نذر ہوتے جیتے جاگتے انسانوں کی کوریج میڈیا پر دیکھ کر بھی نہیں پسیجتے۔ موقعے پر تو ان کو جانے کی خدا توفیق نہیں دے گا۔ایک اور ضروری کام ایک قومی سیمینار کا انعقاد ہے۔ موجودہ صورت حال میں سیاست دان اور ان کے چیلے تو ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں کہ کسی طرح اس المیے کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن اہل علم و فضل، صحافی، علمائے کرام، بلدیاتی ادارے ، تمام متعلقہ ادارے، وزراء اعلی اور وزیر اعظم ایک جگہ بیٹھ کر ساری صورت حال کا جائزہ لیں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کے حوالے سے پالیسی بنائیں۔ صورت حال بہت گھمبیر ہے۔ اگر اس پر فورا توجہ نہ دی گئی تو مزید انسانی المیے جنم لیں گے۔ بے یار و مددگار لوگ رہیں گے کہاں؟ روزگار کی کیا صورت ہو گی؟ کھیت کھلیان تباہ ہو گئے ہیں۔ فصلیں زمین خشک ہونے پر ہی کاشت ہو سکیں گی۔ لیکن اس کام کے لیے سرمایہ کون دے گا۔ اگر فصلیں کاشت نہ ہوئیں تو قحط سالی کے خطرات کے بارے میں کسی نے سوچا ہے؟ جانور سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔ جو بچ گئے وہ چارہ نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ دودھ کہاں سے آئے گا؟ گوشت کی صورت حال کیا ہو گی؟ جو لوگ اس کاروبار سے منسلک تھے ان کی بے روزگاری کا تدارک کیسے ہو گا؟ حقیقی متاثرین کی شفاف رجسٹریشن کے عمل کو کس طرح بہ سرعت انجام دیا جائے؟ نادرا کی ٹیمیں ہر علاقے میں کیمپ لگائیں تا کہ تباہ حال لوگوں کے مسائل میں کسی قسم کا مزید اضافہ نہ ہو۔ سڑکوں کی بحالی کے متعلقہ محکمہ فوری اقدامات کا روڈ میپ تیار کرے اور حکومتی بجٹ منظوری کو ایک اجلاس تک محدود رکھیں۔ تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے فورا فنڈز جاری ہوں۔ سیلاب کے بعد وبائی امراض کا پھوٹ پڑنا قدرتی عمل ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت کو باقاعدہ پروگرام پیش کرنے کی ہدایات جاری ہوں۔۔۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481