اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بے یار و مددگار سیلاب زدگان ہماری توجہ چاہتے ہیں

27 7

جیسا کہ میں نے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ این ڈی ایم اے سانحہ مری سے لے کر دوسرے تمام ایسے سانحات میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ عدالتوں نے بھی مختلف سانحات کا ذمہ دار اسی ادارے کو قرار دیا لیکن اس کے ذمہ داران شاید وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت کا سرچشمہ ہے اس لیے ساری ناکامیوں کے باوجود انھیں فنڈز بھی بہ دستور مل رہے ہیں اور وہ اسی آزادی اور بے شرمی سے انھیں ہڑپ بھی کر رہے ہیں۔وزیر اعلی نے اگر علاقے کو "آفت زدہ علاقہ” قرار دیا تھا تو اس کے بعد وہاں پر وسیع پیمانے پر ناگزیر اقدامات کے بجائے چپ کیوں سادھ لی گئی۔ عمران خان جلسوں اور ریلیوں کے لیے لوگوں کو گھروں سے نکلنے اور پاکستان کو بچانے کی دعوت دیتے تھے۔ ان کا فرض تھا کہ وہ خود ایک ریلیف سیٹ اپ بناتے، ٹیمیں تشکیل دیتے اور شفاف طریقے سے مستحقین کی مدد کی جاتی۔ ویسے بھی وہ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے اعلی انتظامی نمونے کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ این ڈی ایم اے کو  سپریم کورٹ/ہائی کورٹ کیا نوٹس نہیں بھیج سکتی کہ وہ آکر بتائے کہ اس نے حفاظتی طور پر کیا اقدامات کیے تھے۔ سیلابی آفت میں ہر بار امیروں کے محلات کیوں محفوظ رہتے ہیں اور غریبوں کی بستیاں کیوں تباہ ہو جاتی ہیں؟ بستیوں کو سیلاب کی تباہ کاری سے بچانے میں ناکامی پر ادارے کے پاس پلان بی کیا تھا؟ اگر تھا تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ حفاظتی کام میں ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا تو پھر فنڈز اور وسائل ہونے کے باوجود ہزاروں لوگوں کو موجوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا گیا۔ انسانی لاشیں مومی تھیلوں کی مانند سطح آب پر کیوں تیرتی رہیں؟ لوگ سیلاب زدہ علاقوں میں اب تک کیوں پھنسے ہوئے ہیں؟ ریلیف کیمپ کہاں کہاں بنائے گئے؟ حکومت کے پاس پانی اترنے کے بعد بحالی کا کیا منصوبہ ہے؟ کیا آئندہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ ہے یا یہ غریب لوگ ہمیشہ ایسی آفات کا شکار ہونے کے لیے ہی تخلیق ہوئے ہیں؟وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو ایک مشترکہ ہنگامی اجلاس بلا کر ایک متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون کون سے کام صوبائی حکومتیں کریں گی اور کون سے امور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوں گے۔ یہ اجلاس فی الفور بلایا جائے اور ایک دن میں فیصلے کر کے عملی کام شروع کیا جائے۔حکومتوں اور فوج کے پاس جتنے ہیلی کاپٹر ہیں انھیں فورا سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے مامور کیا جائے۔محفوظ مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کیے جائیں جہاں پر متاثرین کے لیے رہائش ، خوراک اور طبی سہولیات میسر ہوں۔ کیونکہ مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے تباہ شدہ بستیوں کے سکول بھی ریلیف کیمپ میں ہی ٹینٹ سکول کی صورت میں قائم کر دیے جائیں تا کہ بچوں کی تعلیم کا حرج نہ ہو۔متاثرین کی رجسٹریشن کا شفاف عمل نادرا کے ذریعے ہو۔ ہر کیمپ میں کم سے کم دس کاؤنٹر بیک وقت کام کریں تاکہ سیلاب زدگان اس افتاد سے نکل کر یہاں نئی خواری کا شکار نہ ہوں۔ اکثر لوگوں کے گھر بار سیلاب کی تند موجیں بہا کر لے گئی ہیں اس لیے شاید بہت سوں کے پاس مطلوبہ کاغذات ہی نہ ہوں۔ اس لیے نادرا کو اضافی کاؤنٹر بھی بنانے ہوں گے جو ایسے لوگوں کا ریکارڈ اپنے ڈیٹا بیس سے انگلیوں کے نشانات کے ذریعے تلاش کریں اور فورا نئے کارڈز جاری کریں۔ سارا کا سارا ون ونڈو آپریشن ہو۔ان قیامت کی گھڑیوں میں عوام الناس پر بھی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لیے جو کچھ ان سے ہو سکتا ہے فورا کریں۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بجائے سبقت لے جانا بہتر ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں اخوت کے رشتے میں پرویا ہے۔ مواخات مدینہ کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے(اقبال)فلاحی تنظیمیں جنھوں نے اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے آفت کے آغاز سے ہی کام شروع کیا، ان کے جذبے اور مساعی کو ہدیہ سلام۔ یہ لوگ اصل میں ہمارے ہیرو ہیں۔ اصل میں قومی ایوارڈ ان لوگوں کا استحقاق ہے۔ تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال۔الحمد للّٰہ کوہسار میں بھی ایم ڈی ایف سمیت کئی تنظیموں نے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی امداد کے حوالے سے کام شروع کر دیا ہے۔ ان لوگوں کو "مکمل بحالی” کے عمل تک کام کرنا چاہیے تاکہ ساری امداد شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچے۔ میں شعراء اور ادباء اور ادبی تنظیموں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ امداد اور بحالی کے کام میں آگے آئیں۔ یاران عزیز مخمور قلندری اور جہانگیر مخلص پہلے ہی بہت کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عزیزہ ایمان قیصرانی اور ان کے برادران بھی میدان عمل میں ہیں۔ لیکن ادبی تنظیموں اور شعراء و ادباء کو ایک منظم پلیٹ فارم بنا کر کام کرنا چاہیے تا کہ صرف خبروں اور بیانات تک محدود رہنے کے بجائے خدمت خلق کے حوالے سے وقیع کام ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481