نورعالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری توانائی نے ارکان کو بریفنگ دی۔سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ توانائی کےشعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، گردشی قرضے میں 4 سال میں ایک ہزار 600 ارب روپے کا اضافہ ہوا، حکومت نے امپورٹڈ فیول سے نئے پلانٹس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، پاور سیکٹر کے پیداوار، تقسیم اور ٹیرف کے ایشوز ہیں۔سیکرٹری توانائی نے مزید بتایا کہ پاورپلانٹس کیلئے افعانستان اور افریقا سے کوئلہ امپورٹ کیا جاتا ہے، افعان کوئلہ 72 ہزار روپے فی ٹن پڑ رہا ہے، افعانستان کا کوئلہ افریقا سے مہنگا پڑتا ہے، پہلے سے موجود پاور پلانٹس کو دیگر ذرائع پر منتقل کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مافیا بیٹھا ہوا ہے، اگر کوئی کام رولزکیخلاف ہوا تو نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائیں گے۔
پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گیا: سیکرٹری توانائی
