اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیلاب زدگان کی مدد ہم سب کا فرض ہے

bca42d78 7a84 4d08 9d2a 90728eed99cd

 

ترقی یافتہ ممالک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے حکومتیں ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ نیز لوگوں کو ناگزیر آگاہی کے بعد سیلاب، زلزلے اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قدرتی آفت یا سانحے کی صورت میں وہاں جانی اور مالی نقصانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں محکمہ موسمیات نے قبل از وقت شدید بارشوں کی پشین گوئی کر دی تھی لیکن سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے نے کچھ بھی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ سرائیکی علاقہ سیلاب کی نذر ہو گیا۔ معلوم نہیں کتنے لوگ پانی میں بہہ گئے۔ بستیوں کی بستیاں اور گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ زمینیں اس حد تک تہہ آب ہیں کہ مرنے والوں کی تدفین کے لیے خشک زمین میسر نہیں۔ جو سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں ان کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں۔ جو کہیں محفوظ ہیں ان کے پاس خوراک، لباس، چھت اور ادویات نہیں۔

وزیر اعلی نے "آفت زدہ علاقہ” قرار دیا اور بغیر کسی قسم کے اقدامات کے بے چارے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر اپنے محل میں محو استراحت ہو گئے۔

این ڈی ایم اے نام کا ادارہ شاید صرف اور صرف فنڈز کے حصول پر مامور ہے۔ ورنہ سانحہ مری کے دوران اس کی کارکردگی طشت از بام ہو چکی اور عدالتوں نے سانحہ مری کا ذمہ دار بھی دیگر محکموں کے سے زیادہ اسی ادارے کو ٹھہرایا تھا۔

حکومت پنجاب شاید سیاسی جوڑ توڑ، نعرے بازی اور مخالفین کے خلاف سازشیں کرنے اور ان کی سازشوں کا جواب دینے میں اس درجہ مصروف ہے کہ اسے تند موجوں کی زد میں آئے بے چاروں کی چیخ و پکار سنائی ہی نہیں دے رہی۔

ہماری عدالتیں جو امراء و سلاطین کے چھوٹے چھوٹے مسائل پر رات بارہ بجے بھی کھل جاتی ہیں اور سوموٹو ایکشن بھی لیتی ہیں لیکن اس انسانی المیے پر کسی عدالت کو بھی سوموٹو کا خیال نہیں آیا۔

اس مشکل گھڑی میں عوام اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے میدان میں آئیں۔ قیامت کی اس گھڑی میں جس کسی سے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے فرض سمجھ کر کریں۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کِیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کُچھ کَم نہ تھے کَرّوبِیاں
(میر درد)

فلاحی تنظیمیں پہلے سے ہی خدمت خلق کے لیے فی سبیل اللہ کام کر رہی ہیں۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو مقبول فرمائے اور انھیں اجر عظیم عطا فرمائے ۔

میں مری، گلیات، سرکل بکوٹ اور کشمیر کے احباب سے گزارش کروں گا کہ آپ لوگ بھی اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر رفاہ ڈویلپمنٹ فورم ، ہمکار فاؤنڈیشن اور مری ڈویلپمنٹ فورم جیسی تنظیمیں باہم مل کر اس سلسلے میں منظم جدوجہد کریں تو ہم خوراک، لباس اور ادویات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں
۔۔۔۔
راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481