اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہاڑی زبان کے تحریری کام کا مختصر جائزہ… راشد عباسی

ff944afc cc11 4370 bf26 c0bc96c5baba

 

ماں بولی کسی علاقے کے لوگوں کی پہچان کی بنیادی اکائی تصور کی جاتی ہے۔ یہ وی زبان ہوتی ہے جو ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں سیکھتا ہے اور اسی میں اپنا پہلا اظہار کرتا ہے ہے۔ اسی لیے ماں بولی میں ماں کے دودھ کی مٹھاس ہوتی ہے۔ اگر کسی بچے کو اپنی ماں بولی جیسی نعمت سے محروم کر دیا جائے تو اس سے بڑھ کر اور المیہ کیا ہو سکتا ہے۔

زبان فقط الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اجتماعی شعور، تاریخ، سوچ، ثقافت اور لوک دانش کا پرتو ہوتی ہے۔ تہذیب و ثقافت کی تشکیل، بقا اور فروغ میں زبان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

زبانیں چھوٹی، بڑی یا ادنی، اعلی نہیں ہوتیں۔ زبان کوئی بھی ہو ، یہ تو محبتوں کی ترویج کا وسیلہ ہے۔ بدقسمتی سے سامراج نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے زبانوں کو بھی نفرت، تعصب اور عداوت سے وابستہ کر دیا۔ حال آنکہ ساری مادری زبانیں محترم ہیں اور حکومت کا فرض ہے کی انھیں قومی زبانیں قرار دے اور ان کی بقا، تحفظ اور فروغ کے لیے عملی اقدامات کرے۔

کوہ مری، گلیات، ہزارہ کے ایک وسیع علاقے، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے بہت سے علاقوں کی مادری زبان پہاڑی ہے۔ پہاڑی زبان بہت قدیم زبان ہے۔ بہ قول ڈاکٹر نصراللہ ناصر۔۔۔۔۔

"زبانوں کا علم ایک سائنس ہے۔ میرے فارمولے (جی ٹی جی) کی رو سے پہاڑی زبان پنجابی سے قدیم زبان ہے۔ جسے ماہرین اور ڈاکٹر سہیل بخاری نے پالی کی ہم عصر زبان قرار دیا ہے”۔
(پہاڑی زبان میں ملفوظی اعزازات و نوادرات۔۔۔ ص 39)

رسم الخط کا تفاوت اپنی جگہ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ پہاڑی زبان قدیم زمانے سے علم و ادب کی بھی اور درباری زبان بھی رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور مری و گلیات میں یہ شاہ مکھی میں لکھی جاتی ہے۔ اس کی لوک کہانیاں، محاورے اور لوک گیت سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسی کی دھائی میں پہاڑی زبان کی اکیڈمی کی تشکیل سے تحریری کام کو منظم انداز میں کرنے کی طرح ڈالی گئی۔ اور دوماہی "شیرازہ پہاڑی” بھی زیور طبع سے آراستہ ہونا شروع ہوا۔ جو بلا تعطل اب تک چھپ رہا ہے نیز اکیڈمی کے زیر انتظام بھی اور ذاتی کاوشوں سے بھی کتابوں کی مسلسل اشاعت ہو رہی ہے۔

گزشتہ دو دھائیوں کے دوران مری، آزاد کشمیر اور ہزارہ میں بھی پہاڑی زبان کے تحریری کام کی طرف انفرادی طور پر تخلیق کاروں نے توجہ دی اور درجنوں کتب چھپ کر منظر عام پر آئیں۔ حکومتوں اور علاقائی نمائندوں کی توجہ ہم نے اس جانب مبذول کروانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہی سرد مہری، بے اعتنائی اور بےگانگی دیوار بن کر سامنے کھڑی ہے۔ کاش ۔۔ ماں بولی سے تھوڑی سی وفا اہل اقتدار و اختیار بھی کرتے تو ہمارا کام بہت آسان ہو جاتا۔ کیونکہ پہاڑی زبان میں تحریری کام اس رفتار سے اور اس مقدار میں نہیں ہو رہا ہے جس سے اس زبان کی بقا اور فروغ کی ضمانت مل سکے۔ کیونکہ ماہرین لسانیات کے مطابق کسی زبان کی بقا اور تحفظ کے لیے ناگزیر ہے کہ۔۔۔
اس زبان کے بولنے والے اسے عزت دیں۔ اور کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔

اس زبان کے بیٹے اپنی نئی نسلوں کو اپنی مادری زبان سکھائیں۔

کم سے کم پرائمری تک بچوں کو اس زبان میں تعلیم دیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہو تو کم سے کم پرائمری میں ایک مضمون کے طور پر اس کی نصابی کتب موجود ہوں اور بچوں کو یہ زبان پڑھائی جائے۔

اس زبان میں اخبار، رسائل اور کتب شائع ہوں۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگرام پیش ہوں۔

اس زبان کے ساتھ معاشی سرگرمیاں وابستہ ہوں۔

ہمیں پہاڑی زبان کے حوالے سے مذکورہ بالا نکات پر تفکر و تدبر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے رویوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی نئی نسلوں کو اپنی ماں بولی نہیں سکھائیں گے پہاڑی زبان کا وجود خطرے میں رہے گا۔

ترجمہ القرآن:۔
الحمد لللہ جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام قرآن کریم کا پہاڑی زبان میں ترجمہ چھپ کر منظر عام پر آ چکا ہے۔ جناب مفتی شفیق الرحمان نے بہت محنت، ریاضت اور محبت سے کتاب الہی کا اپنی ماں بولی میں ترجمہ کیا ہے۔

سیرت النبی:۔

جناب محبت حسین اعوان پہاڑی زبان کے صاحب اسلوب نثر نگار ہیں۔ پہاڑی زبان میں ان کی دیگر دو کتب بھی اہمیت کی حامل ہیں لیکن "اساں نیں نبی پاک اور” پہاڑی زبان میں ان کی شہکار تصنیف ہے۔ سیرت النبی پر قلم اٹھانا قابلیت کی نہیں قبولیت کی بات ہوتی ہے۔ جناب محبت حسین اعوان کو جہاں پاکستان میں پہاڑی زبان میں سیرت النبی پر پہلی کتاب لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی وہیں انھوں نے اپنی ماں بولی کو بھی ان خوش نصیب زبانوں کی فہرست میں شامل کر دیا جن میں سیرت احمد مرسل صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہے۔

ضرب الامثال (آخان):۔
محاورے اور ضرب الامثال کسی زبان کی عوامی ذہانت اور اجتماعی تجربے کا شہکار ہوتے ہیں۔ یہ کثیر المعانی ہوتے ہیں۔ ان کا ظاہری مطلب تو سادہ سا ہوتا ہے لیکن اصل مطلب بہت گہرا اور قابل تفکر ہوتا ہے۔ ضرب الامثال کے حوالے سے پاکستان اور آزاد کشمیر سے دو کتب شائع ہوئی ہیں۔

پہاڑی لوک آخان”، جناب ڈاکٹر محمد صغیر خان” کی کاوش ہے۔۔ جب کی "آخان” جناب محبت حسین اعوان کی محنت و ریاضت کا ثمر ہے۔

پہاڑی لوک کہانیاں:۔
پہاڑی لوک کہانیاں دل چسپ، سبق آموز اور پر تجسس ہیں۔ آزاد کشمیر سے ڈاکٹر محمد صغیر صاحب نے "پہاڑی لوک کہانیاں” کے عنوان سے ان کی اچھی خاصی تعداد اپنی کتاب میں جمع کر دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی ماندہ کہانیوں کو بھی کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔

افسانے:۔
پہاڑی زبان میں کئی دھائیوں سے افسانوی ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام بھی کئی کتب چھپ کر مقبول عام ہوئیں۔ اس کے علاوہ بھی وہاں سے مضامین اور انشائیے بھی شائع ہوئے۔ شیرازہ میں بھی افسانے تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں نیز خاص نمبر بھی شائع ہوتے ہیں۔۔ پاکستان سے شائع ہونے والے پہاڑی زبان کے کتابی سلسلہ "رنتن” میں بھی افسانے شامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد صغیر صاحب کے اب تک دو افسانوی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔۔ جن میں "کھٹی بٹی” اور "ست برگے ناں پھل” شامل ہیں۔۔ جناب محبت حسین اعوان صاحب کا افسانچوں کا مجموعہ ” پھلاں پہری چنگیر” بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔۔ راقم الحروف کا افسانوی مجموعہ بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔

ناول:۔
پاکستان سے چھپنے والا پہاڑی زبان کا پہلا ناولٹ "مولاچھ” بھی لکھنے کا اعزاز جناب ڈاکٹر محمد صغیر خان کو حاصل ہے۔ سادہ اسلوب اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے اپنی زبان اور ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے اچھی کوشش کی ہے۔ امید ہے دیگر تخلیق کار بھی ڈاکٹر صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔

شاعری:۔
پہاڑی شاعری کی کتب مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر ، مری اور ہزارہ سے کئی دھائیوں سے شائع ہو رہی ہیں۔ کشمیر سے ڈاکٹر محمد صغیر صاحب کے دو شعری مجموعے” کیدوں سویل ہوسی” اور "دیوا بلناں رہ”، جب کہ حمید کامران کا "حالانکہ تو اوہے دیں”، لیاقت لئیق کا "مہاڑیاں بگیاڑاں” شائع ہوئے۔ علی احمد کیانی کا شعری مجموعہ زیر طبع ہے۔

مری سے سردار مسعود آکاش کا شعری مجموعہ دو دھائیاں پہلے شائع ہوا تھا لیکن وہ اس سلسلے کو جاری نہ رکھ سکے۔ پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کا شعری مجموعہ” نویں سویل” حال ہی میں چھپا لیکن ملکی سطح پر توجہ اور پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

ہزارہ سے شکیل اعوان کا شعری مجموعہ "ٹہاکیاں نے پھل” پہاڑی زبان کا ایک معیاری شعری مجموعہ تھا۔ شکیل اعوان نے جہاں لوک گلوکار کے طور پر اپنی ماں بولی کی بہت خدمت کی ہے وہیں اس مجموعے کی اشاعت سے بھی پہاڑی زبان کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

راقم الحروف کا شعری مجموعہ "سولی ٹنگی لو” بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔۔ ایک سو اٹھائیس صفحات کے اس شعری مجموعے میں صرف غزلیات شامل ہیں۔

ادبی مجلے:۔

جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام دو ماہی "شیرازہ پہاڑی” چار دھائیوں سے شائع ہو رہا ہے۔ نہایت معیاری ادب اس میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے
خاص نمبر بہت ضخیم ہیں اور تاریخی حوالہ رکھتے ہیں۔

راقم الحروف کی ادارت میں شائع ہونے والا کتابی سلسلہ بھی گزشتہ دو سال سے انفرادی کوششوں سے چھپ رہا ہے۔ یہ صرف پہاڑی زبان کا کتابی سلسلہ نہیں، بلکہ اس میں مادری زبانوں کا ادب شامل ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481