اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا

4 7

مری(نامہ نگار) ملک بھر کی طرح مری میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا مری شہر سے دو ماتمی جلو س برآمد ہوئے جبکہ تریٹ سمیت تحصیل مری کے دیگرمخلتف علاقوں کی امام بارگاہوں سے  ماتمی جلوس نکالے گئے،مری شہر سے بعداز نماز ظہر امام بارگاہ ڈاکٹر منظور حسین تحصیل روڈ مری سے متولی امام بارگاہ ڈاکٹر رضوان منظور کی قیادت میں برآمد ہوا جو لوئر بازار سے ہوتا ہوا ڈاکخانہ چوک پر پہنچا جبکہ دوسرا جلوس قدیمی امام بارگاہ بلتستانیہ کنعان پارک سے متولی ناصر علی شگری کی قیادت میں نکالا گیا جوامتیاز شہید روڈ سے ہوتا ہوا ڈاکخانہ چوک پہنچا اور دونوں جلوس اکٹھے ہوگئے اس موقع پر عزہ دار نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے رہے جی پی اوچوک میں ذاکر نے خطاب کرتے ہوئے فلسفہ شہادت حضرت امام حسین علیہ اسلام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نواسہ رسول کی شہادت نے اسلام کوجلا بخشی انہوں نے صبر،استقامت اورجوانمردی کے ساتھ اپنے سرکٹا کررتبہ شہادت کا عظیم منصب حاصل کیا اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کر کے آنے والی نسلوں کو حق پر چلنے اور جذبہ شہادت کی اہمیت کو روشناس کیا ماتمی جلوس جی پی اوچوک سے ہوتے ہوئے مرحبا چوک پہنچے جہاں عزہ داروں نے زنجیر زنی،سینہ کوبی کی اور نوحہ خوانی کی بعد دونوں جلوس اختتام پذیر ہو گئے اس موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے ایس پی کوہسارحیدر علی کی نگرانی میں ایس ایچ اوراجہ محمد قاسم بھاری نفری کے ہمراہ موجودرہے جبکہ ایس ڈی پی او سرکل مری ملک عارف محمود کی نگرانی میں تریٹ اور دیگر جلوسوں کی فول سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے،جبکہ ریسکیو 1122 مری کی ناقص کارکردگی رہی دس محرم الحرام جلوس کے حوالے سے زنجیر زنی کرتے ہوئے متعدد زائرین کو طبی امداد دینے کے لیے ریسکیو  1122اور ٹی  ایچ کیو اسپتال مری مکمل طور پر ناکام رہے جن کے پاس  ٹانکے لگانے کے لیے اور ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دینے کے لئے کوئی نظام موجود نہیں تھا جبکہ کہ شدید زخمی ہونے والے زائرین کو راولپنڈی کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481