اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سرکل بکوٹ۔۔۔۔ بے حسی اور بے گانگی کیوں؟

497a4d85 9d4d 431a befd 204612b28f02

42338b26 c8b9 435d 8c89 0bfc6e26be1d

سرکل بکوٹ کی سیاست اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں ایک قدر مشترک ہے۔ دونوں میں ہمیشہ انفرادی طور پر بڑے نام موجود رہے ہیں لیکن "ٹیم ورک” ہمیشہ مفقود رہا۔ جیسے وہاں پر کئی کھلاڑیوں نے ذاتی طور پر کئی ریکارڈ بنائے لیکن قومی جیت میں ان کا کردار محدود رہا، اسی طرح یہاں بھی بڑی سیاسی شخصیات نے صرف اپنے اثاثوں، گھرانوں اور اپنی نسلوں کو بنانے پر توجہ مرکوز رکھی اور علاقے کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔

سرکل بکوٹ ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ بلا کا مردم خیز ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں نابغے پیدا کیے۔ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ زراعت، باغبانی، ڈیری فارمنگ، ماہی گیری، اور سیاحت پر توجہ دی جاتی تو آج مقامی روزگار سے نہ صرف لوگوں کی خوشحالی کی راہیں استوار ہوتیں بلکہ قومی آمدنی میں اضافہ اس علاقے کی اہمیت میں مزید اضافے کا موجب بنتا۔

سیاسی شخصیات نے اپنی کامیابی کے لیے انگریزی سامراج کے آزمودہ نسخے پر عمل کیا، یعنی "تقسیم کرو، اور حکومت کرو”۔ برادری ازم کی لعنت کو اس غیر انسانی طریقے سے استعمال کیا گیا کہ کم تعلیم یافتہ اور بے شعور لوگ برادریوں کی صورت میں باہم دگر نفرت و عداوت کا شکار ہو گئے۔

اس نسخے کی کامیابی سے زیرک سیاستدانوں کے سامنے کئی حقیقتیں روز روشن کی طرح عیاں ہو گئیں۔ انھوں نے منظم طریقے سے ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کی۔ ان پر جب یہ حقیقت واضح ہوئی کہ غیر تعلیم یافتہ عوام شخصیت پرستی کی لعنت میں باآسانی گرفتار ہوتے ہیں اور علم و دانش کے فقدان کی وجہ سے تجزیہ و تدبر کی اہلیت نہیں رکھتے تو انھوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے سرکل بکوٹ کو تعلیمی طور پر پسماندہ رکھا۔ اس سلسلے میں صرف ایک ثبوت پیش کروں گا کہ انیس سو بیاسی میں بھی ملکوٹ، لونگال اور آرواڑ میں کوئی ہائی سکول نہ تھا جب کہ دو ہزار اکیس میں بھی یہی صورت حال تھی۔۔ دو ہزار بائیس میں سنا ہے ملکوٹ میں ہائی سکول منظور ہو گیا ہے۔ واللہ اعلم ۔

صحت، تعلیم اور مقامی روزگار کی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے مالی طور پر مستحکم لوگوں میں شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان عام ہوا۔ زراعت و باغبانی، جو اس علاقے کی پہچان تھی، قصہ پارینہ بن گئی۔ زمینیں بنجر ہو گئیں۔ دیہات میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے جن کے پاس شہروں میں رہنے کے لیے مالی وسائل نہ تھے۔ پرائمری اور مڈل درجے کے سرکاری سکول تقریبا ہر علاقے میں موجود تھے لیکن احتساب کی عدم موجودگی میں اساتذہ نے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے اس پیغمبرانہ پیشے کی توہین و تذلیل کی۔ تین چار سال پہلے عام ہونے والے حقائق کے مطابق کئی سیاسی شخصیات کے قریبی رشتہ دار اساتذہ نے تو اس حد تک اپنے فرائض سے پہلو تہی کی کہ خود شہروں میں منتقل ہو گئے۔ اپنی سرکاری ملازمت کی تمام مراعات و سہولیات سے مستفید ہوتے رہے، بھاری تنخواہیں وصول کرتے رہے۔ جب کہ اپنی جگہ تعلیمی اداروں میں چند ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر دیہاڑی دار خواتین و حضرات کو بھرتی کیے رکھا تاکہ رجسٹر حاضری پر "اے” کی جگہ "پی” کا اندراج ہو۔ اور یوں سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم گرتے گرتے پاتال میں جا گرا۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ سکول کھولے گئے۔ لیکن کاروباری ادارے ہونے کی وجہ سے ان کے مالکان کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ (اگر تعلیم سے زیادہ نہیں تو) مادی منفعت کا حصول بھی اہم تھا۔ اس لیے وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور زیادہ پڑھے لکھے اساتذہ کا تقرر نہ کر سکے۔ نتیجتاً سرکاری سکولوں سے تعلیمی معیار بہتر ہونے کے باوجود اکثر علاقوں میں یہ سکول کوئی بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔۔ شاید بکوٹ، بیروٹ، وغیرہ کو اس سلسلے میں استثناء حاصل ہو۔

سیاست دانوں نے انتخابات کے قریب ہر برادری کی کسی صاحب رسوخ شخصیت کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ یوں برادریوں کے اندر بھی تقسیم کا عمل شروع ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی اختلافات نفرت، تعصب، عداوت اور مخالفت کی حدود پار کرتے ہوئے لڑائی جھگڑوں اور قتل و غارتگری تک پہنچ گئے ۔

عوام کی اکثریت کے شہروں میں رہنے سے سیاست دانوں کو مزید فائدہ ہوا۔ شہروں سے ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں تک لے کے جانے اور واپس لانے کے لیے "فقط” چند گاڑیوں کی ضرورت تھی۔ اس پر اگر لاکھ روپے بھی خرچہ آئے تو سیاسی طالع آزماؤں کے لیے یہ چند روپوں کے برابر ہے۔ پھر شہروں میں رہنے والوں کو علاقے کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ وہ برادری، رشتہ داری، ذات، پگ، وعدہ اور دیگر اس طرح کی غیر ضروری بندشوں کی وجہ سے اپنے ووٹ کا حق کسی خاص امیدوار کے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ووٹ قوم کی امانت ہے اور اس کا استعمال پوری ایمان داری سے پڑھے لکھے، دین دار، خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے امیدوار کے حق میں کرنا چاہیے۔

گزشتہ چار دھائیوں میں عوام کی جس طرح ذہن سازی کی گئی ہے اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ مادیت پرستی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ ہم اپنی ثقافت اور مادری زبان کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اپنی روایتیں اور قدریں ہمارے لیے غیر اہم ہو گئی ہیں۔ درد دل سے عاری ہو کر اکثریت صرف نفع ذات کے چکر میں قید ہو گئی ہے۔

میں نے گزشتہ چار برسوں کے دوران بار بار لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ جس طرح ہماری ٹیم مختلف علاقوں میں عالمی معیار کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، سرکل بکوٹ میں بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ زراعت کے احیاء کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا تجزیہ کر کے انھیں دور کیا جائے۔ باغبانی کو فروغ دیا جائے۔ ڈیری فارمنگ کو پیشہ ورانہ انداز میں تربیت کی سہولیات کے ساتھ اختیار کیا جائے۔ سولر، ونڈ اور تھرمل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی راہ ہموار کی جائے۔ معیار تعلیم بلند کرنے کے لیے اہل علم، اساتذہ، صحافیوں اور ماہرین تعلیم کی کمیٹی قائم کی جائے۔ تاکہ ماہانہ اجلاس میں کارکردگی جائزہ پیش کیا جائے۔

مقصد یہ تھا کہ شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان ختم کر کے لوگوں کو مراجعت کے سفر کے لیے قائل کیا جائے۔ لیکن یہاں اس درجہ بے حسی و بے گانگی ہے کہ چار سالوں میں ہم ایک اجلاس تک کی راہ ہموار نہ کر سکے، کار ہائے فلاح و رفاہ تو دور کی بات ہے۔ افسوس۔۔۔ صد افسوس۔
۔۔۔۔۔
راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481