اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

میٹرو بس جل کر راکھ، مسافر محفوظ

27f1e071 69c8 451b 8f1c 7cf11b46601b

راولپنڈی کے علاقے رحمان آباد مری روڑ پر میٹرو بس اچانک  شعلوں میں گھر گئی ۔آگ   لگنے سے بس مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئی۔

تاہم مسافر محفوظ رہے کیونکہ ڈرائیور نے  رحمان آباد اسٹیشن پر بس کو روکا اور تمام مسافروں کو آگ  لگنے کے بعد ایمرجنسی ایگزٹ گیٹ سے باہر نکالا گیا۔ریسکیو 1122 انتظامیہ نے آگ پر قابو پانے کیلئے فوری قریب ترین ایمبولینس، فائرٹرک اور ریسکیو وہیکل کو موقع پر روانہ کیا، جس وجہ سے بروقت آگ پر قابو پا لیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا

اس حوالے سے موصولہ تفصیلات کے مطابق بعض عینی شاہدین اس معاملے میں ڈرائیور اور عملے کی غفلت کی شکایت کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ  جمعرات کی صبح میٹرو بس راولپنڈی صدر اسٹیشن سے مسافروں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب گامزن تھی کہ وارث خان اسٹیشن پر رکنے پر مسافروں کو بس کے اندر ڈیزل کی بدبو آنے لگی جس پر تمام مسافروں نےشور مچا دیا اور بس کے  ڈرائیور اور عملے کو آگاہ کیا جسے عملے نے نظر انداز کردیا، تاہم جیسے ہی اگلے اسٹیشن چاندنی چوک اسٹیشن پر میٹرو بس پہنچی تو ڈیزل کی بدبو اتنی پھیل چکی تھی کے مسافروں کا سفر کرنا ناممکن ہوچکا تھا ایک بار پھر مسافروں کی جانب سے عملے اور ڈرائیور کو توجہ دلائی گئی جسے پھر نظر انداز کردیا گیا  تاہم جیسے ہی بس چاندنی چوک اسٹیشن سے نکلی تو اچانک سے میٹرو بس میں آگ بھڑک اٹھی اس وقت  بس میں بچے بوڑھے مرد خواتین کثیر تعداد میں موجود تھے، آگ لگنے کا پتہ چلتے ہی ڈرائیور نے بس تیزی سے رحمان آباد اسٹیشن پر پہنچائی تاہم اس دوران  آگ نے بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اس دوران رحمان آباد اسٹیشن پر موجود تمام عملے نے اپنی جان پر کھیل کر بس کے شیشوں کو توڑ کر تمام مسافروں کی قیمتی جانوں کو بچالیا ۔۔

میٹرو بس سروس منصوبہ انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے ۔۔۔ راشد عباسی کی رپورٹ

میٹرو بس منصوبے کی تعمیر و تشکیل کے حوالے سے اختلافات اپنی جگہ لیکن یقینا عوامی سہولت کے حوالے سے میٹرو بس سروس منصوبہ ایک انقلابی قدم ہے۔ اور اسے اپنے وسائل کے استعمال سے بتدریج دیگر علاقوں تک پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جیسا کہ میں نے اس حوالے سے پہلے بھی متعدد بار لکھا ہے اور ارباب اختیار کو متنبہ بھی کیا تھا کہ سٹاف، ڈرائیورز اور سیکیورٹی کے پروفیشنل رویے میں بہتری کی بہت گنجائش و ضرورت ہے۔

آج کی آتش زدگی اسی بات کی غماز ہے کہ ایچ ایس ای کے حوالے سے میٹرو کے پاس نہ تو تربیت یافتہ عملہ ہے اور نہ ہی انتظامات۔ یہ تو خدا وند کریم کا کرم ہے کہ ڈرائیور اور مسافر محفوظ رہے اور آگ نے پورا میٹرو سٹیشن جلا کر بھسم نہیں کیا ورنہ ایسی صورت حال میں نیچے سے گزرتی ٹریفک بھی اس کی زد میں آ سکتی تھی۔

میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ جب بھی کوئی اتنا بڑا منصوبہ بنتا ہے تو اس کی مینٹیننس کے لیے لامحالہ بجٹ رکھا جاتا ہے لیکن میٹرو کے سٹیشنوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اور کوئی مینٹیننس نہیں ہو رہی۔

اوور ہیڈ روڈ مینٹیننس کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے کیونکہ سارا بوجھ ستونوں اور بیموں پر ہوتا ہے۔ اس منصوبے کی مینٹیننس کے لیے یقینا کوئی معیاری انجینئرنگ کمپنی ذمہ دار ہوگی۔ اس کی تفصیلات پبلک ہونی چاہئیں ۔

سپریم کورٹ کو بھی سوموٹو کے ذریعے ذمہ داران کو عدالت بلا کر استفسار کرنا چاہیے کہ مسافروں کی حفاظت کے لیے کیا یہی انتظامات کیے گئے ہیں؟

27c5a369 30dd 4d41 885b 100f48bfd373 e94ca863 7c12 45b8 91d9 c4522d2bb794


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481