اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یوم عاشور کے روزے کی فضیلت

تحریر
محمد زبیر عقیل
فاضل مدینہ یونیورسٹی

یوم عاشورہ کاروزہ ، میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔

کثرت سے روزے رکھنے کا مہینہ

مسلم 2756

رمضا ن کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ محرم الحرام میں کثرت سے روزے رکھنے چاہییں ۔

۔۔۔ یوم عاشور دس محرم کے روزے کی ابتداء

بخاری 2004

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے۔ ( دوسرے سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون ) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔
آپ نے فرمایا پھر موسیٰ علیہ السلام کے ( شریک مسرت ہونے میں ) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔

۔۔۔ نو اور دس محرم دو دنوں کا روزہ رکھنا

مسلم 2666

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا

تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ !اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔

راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے ۔

۔۔۔ صرف نو محرم کا روزہ نہیں ہے ۔

بعض علماء کا موقف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ نے یہودیوں کی مخالفت کی بنا پر دس محرم کی بجائے نو محرم کا روزہ رکھنے ارادہ کیا تھا لہذا عاشور کا روزہ صرف نو محرم کا رکھنا چاہئے ۔

صحیح بات یہ ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنا چاہئے ۔

جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے اور صحیح بخاری حدیث نمبر 2003 سے بھی اس موقف کی تقویت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے۔

بخاری حدیث نمبر 2003

تابعی حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں

انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے
عاشوراء کے دن منبر پر سنا،
انہوں نے کہا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے،
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے لیکن میں روزہ سے ہوں اور اب جس کا جی چاہے روزہ سے رہے ( اور میری سنت پر عمل کرے ) اور جس کا جی چاہے نہ رہے۔

یہ واقعہ خلفاء راشدین کا دور گزرنے کے بعد کا ہے۔

گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی وفات کے تیس چالیس سال بعد کا ہے۔

تو کسی صحابی یا تابعی نے نہیں کہا کہ عاشور کا روزہ تو دس کی بجائے نو محرم کا ہو گیا تھا۔

اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس وقت تک بھی لوگ نو اور دس محرم دونوں دنوں کا روزہ رکھتے تھے ۔

۔۔۔ زاد المعاد کی تخریج میں شیخ شعیب الارناؤط رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔

صوموا اليومَ التاسعَ والعاشرَ وخالِفوا اليَهودَ.

ترجمہ نو اور دس محرم دونوں کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔

واللہ اعلم بالصواب


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481