اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار کے باسی اپنی "اصل شناخت” کیوں کھو بیٹھے؟ راشد عباسی کی فکر انگیز تحریر

8cbf00e9 d80e 49cf 9c3e 7390c0daee60

یقینا میری طرح آپ بھی کبھی کبھار ضرور سوچتے ہوں گے کہ کیا ہی اچھا زمانہ ہوتا تھا جب کوہسار میں پہاڑی زبان امیر غریب، پڑھے لکھے، ان پڑھ، چھوٹے بڑے اور عورت مرد کی ماں بولی تھی اور اس کے بولنے پر کسی کو کوئی احساس کمتری نہیں ہوتا تھا۔ زمینیں اور دل آباد ہوتے تھے۔ امریکن سسٹم کے بجائے کوہسار کے لوگ "لیتری” کے خوگر تھے۔ گھاس کی کٹائی، کچے مکانوں کی تعمیر اور شادی بیاہ کے انتظامات پوری بستی مل کر کرتی تھی۔

راپطہ سڑکیں بہت کم علاقوں میں موجود تھیں۔ بڑی سڑک سے اپنے اپنے گاؤں تک لوگ پیدل سفر کرتے تھے۔ بعض علاقوں میں یہ سفر چار پانچ میل پر محیط ہوتا تھا۔ اشیائے ضروریہ یا تو محنت کش کاندھوں پر اٹھا کے لاتے تھے یا پھر باربرداری کے لیے گدھے اور خچر استعمال ہوتے تھے۔ چونکہ اکثر دیہات میں صحت کی سہولیات دستیاب نہیں تھیں اس لیے مریضوں کو چارپائی پر لٹا کر دو آدمی کاندھوں پر اٹھا کر بڑی سڑک تک لاتے تھے۔ جہاں سے گاڑی کے ذریعے ہسپتال پہنچایا جاتا تھا۔

ہائی سکول بھی بہت کم گاؤں میں تھے۔ اس لیے پرائمری پاس کر کےطلبا خصوصا لڑکیوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جاتا تھا۔ ملکوٹ، آرواڑ، لونگال سے طلباء کئی میل پیدل سفر کر کے روزانہ گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ آتے تھے۔ میرے جیسے سینکڑوں ایسے افراد ہوں گے جن کو کسی قابل بنانے میں گورمنٹ ہائی سکول اوسیاہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔

ہمارے کالج کے دنوں میں پڑھے لکھے افراد کا "لیفٹ” یا "رائٹ” کے ساتھ انسلاک ناگزیر خیال کیا جاتا تھا۔ "سبز ہے ، سبز ہے، ایشیا سبز ہے” اور "سرخ ہے، سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے” کے نعرے اکثر تعلیمی اداروں میں بلند ہوتے رہتے تھے۔ طلبا تنظیمیں بھی خاصی فعال ہوتی تھیں کیونکہ اپنی اپنی سیاسی جماعت سے یہ معصوم طبقہ اپنے تئیں خاصی مراعات لیتا تھا۔ اور اس کی جذباتیت کو سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی تھیں۔۔ اگرچہ آج کل طلبا تنظیموں پر پابندی ہے لیکن یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ طلبا کو سیاسی شعور دینے کے بجائے سیاسی جماعتیں ان میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور دشمنی کوٹ کوٹ کر بھرتی ہیں جس کا نتیجہ پرتشدد تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔ سکول سے بچے جیسے ہی کالج پہنچتے، انھیں سرخاب کے پر لگ جاتے تھے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی "پھڈا” دیکھنے کو مل جاتا تھا جس میں کبھی مختلف تنظیموں سے وابستہ طلبا کا آپس میں دنگل، کبھی ٹرانسپورٹروں سے جنگ اور کبھی پولیس اور انتظامیہ سے آنکھ مچولی۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ نام کی ایک سہولت بھی ان دنوں ہوا کرتی تھی جس کے لیے ایک سٹوڈنٹ کارڈ بھی ہوا کرتا تھا۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ کارڈ ہولڈر کو آدھے کرائے پر سفر کی سہولت حاصل تھی۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں "بسیں” اور "فورڈ ویگنیں” ہوتی تھیں۔ اپردیول، پنڈی روٹ پر جو بسیں چلتی تھیں چڑھائی چڑھتے ہوئے اکثر لڑکے بالے ایک موڑ پر اتر جاتے۔ کسی قریبی گھر میں دودھ، سبزی یا کپڑے وغیرہ پہنچا کر اگلے موڑ سے پھر بس میں سوار ہو جاتے تھے۔ بسوں میں لکھے ہوئے اشعار بھی اعلی ذوق کے آئینہ دار ہوتے تھے۔۔ بشیر بدر کا یہ شعر تو تقریبا پبلک ٹرانسپورٹ والوں نے اپنے لیے وقف سمجھ لیا تھا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس کے علاوہ سفر کی دعا، کلمہ طیبہ اور اخلاقی اصول و ضوابط بھی بسوں اور ویگنوں میں درج ہوتے تھے۔۔ کچھ اس طرح کے جملے عام تھے ” بسم اللہ اور کلمہ پڑھ کر سوار ہوں”، "بزرگوں کا احترام کریں”، "نماز قائم کریں”، "ماں باپ کی عزت کریں”۔

ڈرائیور حضرات کو استاد کہا جاتا تھا۔ ان کے گاڑی میں داخل ہونے کے دروازے پر "پائیلٹ گیٹ” لکھا ہوتا تھا۔ استاد جی کا لباس صاف ستھرا ہوتا تھا۔ بالوں میں تیل اور اکثر کی آنکھوں میں سرمہ بھی ہوتا تھا۔ استاد بال اچھے طریقے سے کنگھی کر کے مانگ نکالتے تھے۔ سیٹ پر تھوڑا سا ٹیڑھا بیٹھنا شاید کوئی انداز خاص تھا جسے ” اپن کا سٹائل کہہ سکتے ہیں” ۔

طالب علموں کا کام صرف سکول کالج جانا اور پڑھنا نہ ہوتا تھا۔ بلکہ بکریاں چرانا، دکان سے سودا سلف لانا، بارش کے امکان پرکچے مکانوں کی چھتوں کو لکڑی کے "دبنے” سے کوٹنا، جلانے کے لیے لکڑیوں کا ایندھن کاٹ کے لانا، رشتہ داروں کے گھروں میں دودھ، لسی، سبزی، پھل پہنچانا، جو کہ تحفتا ایک دوسرے کو بھیجنا عمومی روایت تھی، وغیرہ وغیرہ شامل تھا۔

پیدل چلتے ہوئے رستے میں کوئی عمر میں بڑا مل جاتا، جس کے پاس کوئی وزنی سامان ہوتا تو لڑکے ان کی مدد کو فرض سمجھتے تھے۔ اور اس احترام کے لیے ان سے شناسائی کا ہونا ضروری نہیں تھا۔

لوگ زراعت کے ساتھ وابستہ تھے۔ زمین کی کاشت فرض سمجھی جاتی تھی۔ کسی وجہ سے زمین کاشت نہ کر سکنا عار سمجھا جاتا تھا۔ زمین کی کاشت ہل اور بیلوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ جن لوگوں کے پاس اپنے بیل نہ ہوتے تھے وہ "لاہمت” (اجرت) کے ذریعے بیل والوں سے اپنی زمین کاشت کرواتے تھے۔ اگست میں فصلیں پکتی تھیں اور چراہ گاہوں (رکھوں) میں گھاس بھی تیار ہو جاتی تھی۔ فصلیں تو خواتین خود کاٹتی اور سنبھالتی تھیں لیکن گھاس کے لیے دیہاڑی دار مزدور کام پر لگائے جاتے تھے۔۔ کیوں کہ ہر گھر میں بھینس، گائے، بکری اور بیل ہوتے تھے اس لیے یہ گھاس خشک کر کے رکھ لی جاتی تھی جو موسم سرما میں جانوروں کے لیے چارے کے طور استعمال ہوتی تھی۔ فصلوں اور سبزیوں میں مکئی، جو، گندم، دالیں، فریش بینز، مٹر، آلو، ٹماٹر، مرچیں، مولی، شلجم، کدو وغیرہ کی پیداوار وافر تھی۔ اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ آلو، فریش بینز، مولی، شلجم وغیرہ بڑے شہروں میں بھی بیچنے کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ میں چشم دید گواہ ہوں کہ فریش بینز اور آلو چھمب، دروازہ، لونگال، نیرگول، پلک، جنڈالہ وغیرہ سے خیرہ گلی پہنچائے جاتے تھے اور پھر وہاں سے ٹرکوں کے ذریعے لاہور وغیرہ بھیجے جاتے تھے۔

اسی (80) کی دھائی تک اکثر گاؤں میں زیادہ تر گھر کچے ہوتے تھے۔ پھر سیمنٹ کا استعمال شروع ہوا اور پکے گھر بننے لگے۔ برف باری کے پیش نظر بارکوں کا رواج بھی عام ہو گیا۔ لیکن تب بھی لوگ اپنے رہنے کے لیے کچے گھر بناتے تھے۔ نیز جانور رکھنا بھی ابھی قصہ پارینہ نہیں ہوا تھا اس لیے جانوروں کے لیے کچے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ سن دو ہزار کے بعد بھی جاری رہا، جو بعد میں جانور نہ رکھنے کے باعث متروک ہو گیا۔

عموما جامع مسجد ایک ہی ہوتی تھی۔۔ دور دور سے اہل قریہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پیدل چل کر آتے تھے۔ گاؤں میں کسی قسم کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا تھا۔ دو تین گاؤں کے لوگ ایک ہی مسجد میں، ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ نہ کہیں مسلک و فرقہ کی بنیاد پر جگھڑا، فساد اور نہ ہی دلوں میں نفرتیں اور کدورتیں۔

پرائیویٹ سکولوں کا وجود بھی ابھی عنقا تھا۔ امیر، غریب سب ایک ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھتے تھے۔ ایک ہی نصاب تعلیم، ایک ہی یونیفارم اور سب کے لیے ٹاٹ کا انتظام۔ اساتذہ کا حقیقی احترام طلباء کے دل میں ہوتا تھا۔ اور اساتذہ بھی اپنے مقام و مرتبے کا احساس و ادراک رکھتے تھے۔

نوے کی دھائی کے بعد کارپوریٹو کریسی اور سامراجی طاقتوں نے غریب ممالک کے لوگوں کو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنی پہچان کی بنیادی اکائی یعنی مادری زبانوں سے دور کرنا شروع کر دیا۔ اہل کوہسار نے بھی احساس کمتری کا شکار ہو کر نئی نسل کو پہاڑی زبان کے بجائے اردو، انگریزی سکھانی شروع کر دی کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ پہاڑی زبان سے وابستہ رہ کر وہ معاشی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔

شہروں میں بڑے بڑے انگلش میڈیم سکول کھل گئے۔ لیکن دیہات میں ابھی بھی گورنمنٹ سکول ہی خدمت کے جذبے کے ساتھ نئی نسلوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری سر انجام دے رہے تھے۔ لیکن یہ سکول شہروں کے مہنگے سکولوں کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے اپنی نئی نسلوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھانے کی غرض سے مالی طور پر خوشحال لوگوں نے شہروں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔ دھیرے دھیرے یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور گاؤں کے گاؤں خالی ہوتے گئے۔ دیہات میں وہی رہ گیا جس کے پاس شہروں میں رہنے کے لیے مالی وسائل نہ تھے۔

لوگوں کی نقل مکانی سے زمینیں غیر آباد ہونا شروع ہو گئیں۔ جو لوگ دیہات میں رہ گئے تھے انھوں نے جانور پالنے کا تردد بھی چھوڑ دیا۔ رابطہ سڑکوں کے بننے اور بجلی کے آنے سے لوگوں کا انداز فکر اور لائف سٹائل بدلنا شروع ہو گیا۔ جانور پالنے کے بجائے لوگ ٹیٹرا پیک دودھ کے عادی ہو گئے۔ انھیں اناج اور سبزیاں اگانا جان جوکھوں کا کام لگنے لگا۔ اس لیے کھادوں اور کیمیکلز کی مدد سے اگنے والی سبزیاں، پھل شہروں سے لا کر استعمال کرنے لگے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے عہد جدید کی تمام سہولیات کوہسار کے تمام دیہات کو مہیا کی جائیں تاکہ مراجعت کا سفر شروع ہو۔ لیکن دیہات کو شہر بننے سے بچایا جائے۔ زراعت، باغبانی، مگس بانی، ڈیری فارمنگ اور سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ شدید سرد موسم میں دور دراز دیہات کو بھی سارے محکمے بعینہ وہی سہولیات بہم پہنچائیں جو مری کے چھوٹے سے کمرشل علاقے کے لیے وقف ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481