اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری کےعلاقے دیول میں معمولی تنازعے پر ڈاکٹر قتل

7 7

مری کےعلاقےدیول کے مقام پر ہفتے اور اتوارکی درمیانی رات کو لنک روڈ تنازعہ کے جرگہ میں آنے والا شخص 6dbc9bf9 79f2 4900 ab12 f7aac7fb10e7ڈاکٹر طلعت  محمود گھر کے نزدیک راستےمیں گولیاں لگنے سے جاں بحق ہو گیا

 دیول پچھوال کا رہائشی طلعت محمود چیک شہزاد  این آئی ایچ اسلام آباد  میں لیبارٹری انچارج تھا اور کل جاپان جانے کی تیاری کر رہا تھا ، اس کا ٹکٹ بھی کنفرم تھا ۔ ذرائع کے مطابق  طلعت محمود لنک روڈ تنازعہ کے جرگہ میں راضی نامہ کے سلسلہ میں جونہی گھر کے نزدیک مسجد سے  عشاء کی نماز پڑھ کر گھر کی طرف روانہ ہو ا تو تاک میں بیٹھے افراد نے فائرنگ کر دی کردی، گھر پہنچنے پر خون زیادہ نکل جانے کے باعث طلعت محمود بے ہوش ہوگیا ۔

جسے ریسکیو1122 کی مدد سے ٹی ایچ کیو ہسپتال مری پہنچا گیا لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گیا ۔

 پولیس نے موقع پر پہنچ کر اپنی کاروائی کرتے ہوے گولیوں کے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کیے ۔

لواحقین کے مطابق پھگواڑی پولیس بار بار کی اطلاع کے باوجود تاخیر سے پہنچی، واضح رہے کہ جس علاقے میں قتل ہوا وھ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا حلقہ اور آبائی علاقہ ہے

دریں اثنا مقامی صحافی نوید نثار عباسی کی رپورٹ کے مطابق مری کے علاقے اپر دیول میں جرگے کے دوران گولیاں چل گئیں جس کے نتیجے میں  ایک شخص جاں بحق اور  ایک شدید زخمیہو گیا ۔ قتل ہونے والا شخص ڈاکٹر طلعت عباسی ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ جرگے کا میزبان ہارون الرشید عباسی کو گھڑیال کیمپ کے پاس سے ریسکیو 1122کے حوالے کیا گیا جس کو سیول ہسپتال مری میں علاج جاری ہےتھانہ لوہر دیول پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیر کر سرچ اپریشن شروع کر دیا ہے ۔ مقامی زراہع کے مطابق گزشتہ روز لنک روڈ سے شروع ہونے والے تنازعہ میں روڈ کو بند کر دیا گیا تھا جس کی اطلاع تھانہ لوہر دیول کی دی گئ تھی جس پر متعلقہ پولیس  موقع پرآئی اور ممتاز عباسی کی طرف سے درخواست لے کر واپس چلی گئ تااہم شام کو تحریک انصاف کے رہنما و بزنس مین مراد علی نے معززین کے ساتھ ہارون الرشید عباسی کے گھر میں ایک جرگہ بلایا اور جرگے میں ممتاز چاپانی اور ان کے بیٹے مطیع الرحمن کو آنے سے روک دیا گیا زراہع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کے مطیع الرحمن کے ساتھ اس کے کچھ دوست ائے ہوئے تھے جو غیر مقامی تھے اور جرگہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا اور مقتول ڈاکٹر طلعت عباسی کا انتظار ہو رہا تھا جبکہ میزبان ہارون الرشید بھی گھر میں موجود نہیں تھے وہ بھی راستے میں تھے کے باہر لنک روڈ پر بیٹھے مطیع الرحمن اور اس کے نامعلوم دوستوں میں سے کسی نے فاہر کر کے ڈاکٹر طلعت عباسی کو شدید زخمی اور ہارون الرشید کو ٹانگ پر گولی مار دی جبکہ دونوں کو ہسپتال الگ الگ گاڑیوں میں لے کر جایا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے طلعت عباسی جابحق ہو گئے اور ہارون الرشید عباسی کو مراد علی عباسی نے گھڑیال کیمپ سے ریسکیو 1122 ایمبر جنسی کی گاڑی بلا کر ان کے حوالے کر کے خود موقع سے فرار ہو گیا ہے ابتدائی روپوٹ کے مطابق مطیع اللہ ممتاز اپنے دوستوں کے ساتھ راولپنڈی کی طرف بھاگ گیا جبکہ ممتاز عباسی بھی پولیس انے سے پہلے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جبکہ ایس پی کوہسار حیدر علی کے حکم پر تھانہ مری تھانہ لوہر دیول سے بھاری نفری موقع پر پہنچ گئ اور سرچ اپریشن شروع کر دیا گیا

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

 دیول میں فائرنگ سےجاں بحق ہونے والے طلعت عباسی کی لاش کو لواحقین نے جھکاگلی چوک میں رکھ شدید احتجاج کیا، ملزمان کو فوری گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا، احتجاج کے دوران گھنٹوں سڑک بلاک رہی جبکہ ایف آئی آر درج ہونے اور مطالبات تسلیم ہونے کے بعد  احتجاج ختم کیا گیا  تھانہ پھگواڑی میں درج  ایف آئی آر کے مطابق  مقتول کے صاحبزادے  محمد صائم  ساکن دیول شریف نے درخواست دی ہے  کہ دو تین دن پہلے مطیع الرحمن نے راستے پر بیٹے چھوٹے بچوں کو اسلحہ کی نوک پر ڈرایا دھمکایا اس معاملے کو سلجھانے کیلئے بڑوں نے جرگہ کیا کہ مطیع الرحمن یا اسکے گھر میں سے کوئی بڑا آ کر معافی مانگے مورخہ  16.7.22 بوقت رات گیارہ بجے برلب روڈ نزدیک مکان محمد نعمان موجود تھے جو موقع پر میرے والد طلعت محمود انصار احمد عبد المنان اور دیگر موجود تھے کہ محمد ممتاز ولد محمد خوشی ہارون الرشيد ولد محمد رشید، احمد ولد محمد صفدر اور مانی لورہ اور دیگر دو تین افراد نامعلوم (2) گاڑیوں پر بیٹھ کر روڈ پر آۓ جو گاڑی دیکھ کر میرے والد صاحب روڈ کے نزدیک گئے محمد ممتاز وغیرہ بالا گاڑیوں سے نیچے اترے اور اونچی آواز میں للکارنا شروع کیا میں ہمراہ انصار احمد، عبدالمنان روڈ کے پاس پہنچے تو اس وقت محمد ممتاز نے پسٹل نکال کر سیدھا فائر میرے والد طلعت محمود پر کیا جو میرے والد کو چھاتی پر لگا اور محمد ممتاز کے ساتھی اونچی آواز میں باتیں کرنے لگے کہ معافی منگوانے کا صلہ مل گیا مانی لورہ والے نے للکارتے ہوۓ کہا کہ میں مطیع اللہ اور سمیع اللہ کا دوست ہوں اور تم سب کو بھی جان سے ماردوں گا میں ہمراہ عبد المنان اور انصار احمد والد صاحب کے پاس پہنچے تو وہ خون میں لت پت تھے ملزمان محمد ممتاز ،ہارون الرشید ، پانی اورہ اور دیگر دوبارہ فائرنگ کرتے ہوئے گاڑیوں کو روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو کے والد صاحب کو ہم برائے علاج معالجہ سول سپتال مری لے کر آۓ ہسپتال آکر ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے والد طلعت محمود فوت ہو چکے ہیں ممتاز اور اسکے ساتھیوں نے میرے والد صاحب کو ناحق قتل کیا انکے خلاف قانونی کاروائی کر کے میں انصاف دلایا جائے ایف آئی  آر میں  جرم 302/148/149 ت پ  درج کیا گیا لاش  پوشٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کی گئی جسکے بعد لاش جھکاگلی چوک میں رکھ کر شدید احتجاج بھی کیا گیا بعد ازاں مقتول طلعت محمود عباسی کو ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں آبائی گاؤں دیول میں سپرد خاک کردیا گیا ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481