کراچی: حیدر آباد واقعے کے بعد سپرہائی وے سہراب گوٹھ 4 گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا نامعلوم شرپسندوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر رکاٹیں کھڑی کردی اور متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔
حیدرآباد واقعے نامعلوم شرپسندوں نے سپرہائی وے سہراب گوٹھ کو میدان جنگ بنالیا، سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور 2 کاریں 2 موٹر سائیکلیں اور ایک بس کو آگ لگادی۔
شرپسند عناصر نے ہنگامہ آرائی کے دوران ایک کوسٹر کو یرغمال بناکر اس میں سوار تمام افراد سے نقدی ، طلائی زیورات اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے جب کہ مزاحمت کرنے پر ایک شخص کو گولی مار کر قتل کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شرپسندوں نے ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی خواتین کے ساتھ بھی بدتمزی بھی کی۔
ذرائع کے مطابق سہراب گوٹھ پر ہنگامہ آرائی کے باعث گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور اندرون سندھ جانے والی سڑک ٹریفک کےلیے بند کردی گئی جب کہ لیاری ایکسپریس وے سے سہراب گوٹھ جانے والی شارع کو بھی بند کی گئی۔
چار گھنٹے تک سہراب گوٹھ پر جاری ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے ذریعے منتشر کیا جس کے بعد سپرہائی وے کو ٹریفک کے لیے بحال کیا گیا۔
اس دوران الاصف اسکوائر کا گھیراو بھی کیا ایک درجن سے زائد شرپسندوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ، سپرہائی وے کو ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی۔
سہراب گوٹھ میں ہنگامہ آرائی کے دوران مسافروں سے لوٹ مار، ایک شخص قتل
