پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں چیئرمین نورعالم خان نے نیب کے قائم مقام چیئرمین ظاہر شاہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بی آر ٹی، بینک آف خیبر، بلین ٹری سونامی اور مالم جبہ کیس دوبارہ کھول کر پی اے سی کو رپورٹ دی جائے۔
پی اے سی اجلاس میں سابق چیئرمین ایف بی آر جسٹس (ر) جاوید اقبال کو طلب کیا گیا تھا تاہم انہوں نے پی اے سی کو خط لکھ کر آگاہی دی کہ وہ عید کی چھٹیوں پر گھر جا چکے ہیں اس لیے اجلاس میں پیش نہیں ہو سکیں گے جبکہ اجلاس میں قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔
اس موقع پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ ہم اختیارات کے اس قدر ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کر سکتے، جی چاہتا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا وارنٹ گرفتاری جاری کر دوں، اس شخص نے نیب کا نام بھی خراب کر دیا ہے۔
اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے میٹنگ سے جانے کی اجازت طلب کی جس پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ آپ کا اجلاس میں بیٹھنا ضروری ہے، آپ کے ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھے ہیں، آپ کمیٹی سے نہیں جا سکتے۔
انہوں نے قائم مقام چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ بی آر ٹی کرپشن ریفرنس کہاں گیا ؟ بینک آف خیبر کا کیا کیا؟ بلین ٹری سونامی کا کیا ہوا؟ مالم جبہ کا کیا کیا؟ جس پر ظاہر شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ مالم جبہ کیس بند ہو چکا ہے جس پر چیئرمین پی اے سی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہدایات دیتے ہیں کہ اس کیس کو ری اوپن کریں اور ہمیں رپورٹ دیں۔
چیئرمین پی اے سی نے پوچھا کہ انہیں کتنے وقت میں رپورٹ پیش کی جائے گی؟ جس پر ظاہر شاہ نے جواب دیا کہ 6 ماہ میں رپورٹ دیں گے۔
نور عالم خان نے کہا کہ آپ کے پاس فائلیں تیار ہیں، سالوں سے یہ کیس پڑے ہوئے ہیں، بلین ٹری کیس کا کیا ہوا؟ اب تو لوگوں نے درخت جلانا شروع کردیے ہیں، انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ان چاروں کیسز پر فوری تحقیقات کا حکم دیتی ہے۔
