اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل لینگویج ڈاکیومینٹیشن ورکشاپ

اسلام آباد (راشد عباسی) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز نے چار روزہ انٹرنیشنل لینگویج ڈاکیومینٹیشن ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا۔۔ یہ ورکشاپ پیر ستائیس جون سے تیس جون دو ہزار بائیس تک جاری رہی ۔ پاکستان کی پینتیس جامعات سے ماہرین لسانیات اس ورکشاپ کا حصہ بنے جو جامعات میں مختلف زبانوں کی تدریس پر مامور ہیں۔

ورکشاپ کی ٹرینر پروفیسر ڈاکٹر صدف منشی کا تعلق یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکسس سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ معدومیت کے خطرات سے دو چار زبانوں کو بچانے کے لیے ان کے بولنے والوں میں شعور اجاگر کیا جائے کہ زبانیں نئی نسلوں کو نہ سکھانے سے مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ان کی ڈیجیٹل آرکائیونگ کے ساتھ ساتھ ان کی بقا و تحفظ کے لیے بھی حکومتی اور علاقائی سطح پر جدوجہد ناگزیر ہے۔

لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز کے ڈائرکٹر ڈاکٹر غلام علی نے ورکشاپ کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں حاضرین سے جو خطاب کیا وہ ایک سچے، کھرے، نڈر اور درد دل رکھنے والے پاکستانی کا خطاب تھا۔

انھوں نے کہا کہ انگریزی اس وقت طاقت ور زبان ہے۔ اس میں ہر شعبے کا علمی مواد موجود ہے۔ ہمیں ایک بین الاقوامی زبان کے طور پر انگریزی سے فایدہ اٹھانا چاہیے لیکن اپنی زبانوں کو مار کر انگریزی کو حاوی کرنا اپنے ملک، قوم اور عوام کا استحصال ہے۔ پوسٹ ماڈرن ایرا میں ہمیں ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریزاں نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں مشین ٹرانسلیشن کو ترجیح دینی چاہیے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مشین ٹرانسلیشن کے لیے بھی خدمات ماہرین ہی انجام دیں گے۔۔ صرف اس میں غلطیوں کی گنجائش کم ہو جاتی ہے اور کام آسان ہو جاتا ہے۔

زبان ایک کلچرل انسٹرومنٹ ہے یعنی فکر و تدبر کا ایک آلہ ہے۔ زبان اور ثقافت باہم لازم و ملزوم۔۔ زبان کسی ثقافت کو زندہ رکھنے اور پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک زبان کے مرنے کا مطلب ہے اس قوم کی تاریخ، ورثے، روایتوں اور قدروں کی موت۔

پاکستان ایک کثیراللسانی ملک ہے۔ اس میں تقریبا اسی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ ساری زبانیں خوبصورت ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چھبیس زبانیں مرنے کے قریب ہیں۔ حکومت کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انفارمیشن منسٹر مریم اورنگ زیب صاحبہ نے کہا کہ زبان بہت اہم ٹول ہے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کی شناخت اپنی زبان ہے۔ آج زبان پر فوکس کم ہو گیا ہے۔ آج ہمارے بچے زبان سے دوری کی وجہ سے اپنی ثقافت، ورثے اور قدروں ، روایتوں سے دور ہو رہے ہیں۔ زبان اور کلچرل کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔

انھوں نے حکومت کی طرف سے زبانوں کی بقا اور فروغ کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ عوامی آگاہی کے لیے ٹی وی اور ریڈیو کو استعمال کیا جائے۔

سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی انٹی گریٹ ہوں۔ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ذریعے آگاہی مہم بھی ضروری ہے۔ جناب وزیر نیشنل ہیری ٹیج فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دیگر اداروں کو بھی ساتھ ملا کر نیشنل انی شی ایٹو سے زبانوں اور ثقافت کی بحالی میں بہت مدد ملے گی۔

دونوں تقاریب کے صاحبان صدارت نے پر مغز گفتگو کی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے انیس سو چوہتر میں قائم کی۔یہ یونیورسٹی ایک مشن ہے۔ یہاں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اکیاون فی صد لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ اس ادارے سے اب تک چھ اعشاریہ چار ملین طلبا فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی کےچوون ریجنل آفس ہیں۔ روزانہ ستر ہزار بچوں کو ڈیجیٹلی پڑھایا جاتا ہے۔

یہ ادارہ ایجوکیشنل مشن میں یونیک ہے۔ قیدیوں کے لیے جیل کے اندر ہی مفت مراکز ہیں۔ ان کے امتحانات بھی وہیں لیے جاتے ہیں۔ ٹرانس جینڈرز کے لیے تعلیم مفت ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں نئے سینٹر آف ایکسیلنس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں ڈائیلاگ ود ہسٹری، سیرت النبی، زبانیں اور ترجمہ شامل ہیں۔

ایڈوائزر ٹو پرائم منسٹر آن کشمیر افئیرز جناب قمر زمان کائرہ نے اپنے روایتی انداز میں حاضرین سے بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ پنجابی ہیں اور کوئی جب ان سے پنجابی میں بات کرے تو وہ فورا ہی اس کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ انھوں نے وائس چانسلر صاحب کے وژن اور مشن کی بہت تعریف کی اور اپنی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دھانی کروائی۔
IMG 20220630 133844 11 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481