اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شعری مجموعہ "آواز کا کاسہ”۔۔ شکیل اعوان

شعری مجموعہ "آواز کا کاسہ"۔۔ شکیل اعوان

سن دو ہزار انیس سے قبل شکیل اعوان کی پہچان فقط لوک گائیکی کے حوالے سے تھی۔ جو اپنی ماں بولی سے عشق کی حد تک محبت کرتا ہے۔

شعری مجموعہ "آواز کا کاسہ"۔۔ شکیل اعوان

شعری مجموعہ "آواز کا کاسہ”۔۔ شکیل اعوان

لیکن "ٹہآکیاں نے پھل” کی کامیاب اشاعت کے ساتھ اس کے مداحوں کو علم ہوا کہ شکیل اعوان پہاڑی زبان کا ایک مستند شاعر بھی ہے۔ اب اس کے اردو غزلیات کے مجموعے "آواز کا کاسہ” کے زیور طبع سے آراستہ ہونے سے شکیل اعوان کے مداحوں کو یقینا خوشگوار حیرت ہوئی ہو گی کہ شکیل اعوان اپنی ماں بولی، پہاڑی زبان، کے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان، اردو، کا بھی خوب صورت شاعر ہے۔ "آواز کا کاسہ” کی کامیاب اشاعت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ماں بولیوں سے محبت کسی تخلیق کار کو قومی زبان سے دور کرنے کا کسی بھی طرح سبب نہیں بنتی بلکہ ماں بولیوں کے فروغ سے قومی زبان کے فروغ میں بہت مدد ملتی ہے۔

اس حقیقت سے ہم بہ خوبی واقف ہیں کہ تخلیق کار اپنے سماج کا ایک فرد ہونے کے ناطے اپنی تخلیقات کے لیے خام مواد اپنے سماج سے ہی حاصل کرتا ہے۔ مختلف تخلیق کاروں کے بیچ تفاوت اظہار کا ہے۔۔ کچھ شعراء اپنی انفرادیت قائم کرنے یا علمیت کا رعب جھاڑنے کے لیے بے جا رسمی اور پرتصنع انداز تحریر اختیار کرتے ہیں جب کہ شکیل اعوان ان شعراء میں شامل ہے جن کے کلام کا بنیادی وصف ہی سادگی و سلاست ہے۔ وہ اپنے خیالات و تجربات کو کسی فنی شعبدہ بازی کے بغیر اور عام فہم الفاظ کے ذریعے شعر میں اس طرح ڈھالتا ہے کہ ابلاغ کے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ شکیل اعوان کا ایقان ہے کہ شعر میں کوئی بڑا خیال پیش کرنے کے لیے پرشکوہ الفاظ اور گنجلک تراکیب کا استعمال قطعا ضروری نہیں۔۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے۔۔۔

تند موجیں ہیں، ڈولتی کشتی
نیت ناخدا ، خدا ، اور میں

سنسان راستوں سے مجھے واسطہ رہا
اپنی صدائیں آپ ہی سنتا رہا ہوں میں

من مردہ تھے، تن تھے توانا، ظاہر جسم سجیلے تھے
شیش محل میں رہنے والے، لوگ بڑے پتھریلے تھے

شکیل اعوان جیسا حساس شاعر جب مشاہدہ کرتا ہے کہ مادیت پرستی کی دوڑ میں انسان اشرف المخلوقات کے اعلی و ارفع مقام و مرتبے کو چھوڑ کر عالم اسفل میں جا گرا ہے۔۔اخلاقی زبوں حالی، مفاد پرستی، ہوس زر اور خود غرضی جیسی بیماریوں نے انسانیت کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا ہے۔۔۔ تو وہ پکار اٹھتا ہے۔۔۔۔
اندھا کر ڈالا ہے دولت کی ہوس نے اس کو
ورنہ یہ آدمی "انسان” ہوا کرتا تھا

شہر کی سڑکوں پہ بھوکے بھیڑیے پھرتے ہوئے
شرم سے آنچل میں اپنا منہ چھپاتی زندگی

گلوبلائزیشن اور کارپوریٹو کریسی نے تیسری دنیا کے لوگوں کو ان کی ثقافتوں اور مادری زبانوں کے حوالے سے احساس کمتری میں مبتلا کر کے انھیں ان کی شناخت اور پہچان سے محروم کر دیا ہے۔ کبھی ہمارے ہاں عزت و توقیر کی کسوٹی علم و فضل اور تقوی و پرہیزگاری ہوا کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے "لینڈ کروزر و کلاشنکوف کلچر” نے نئی نسل کے آئیڈیلز بدل کر رکھ دیے ہیں۔ اب اہل علم و فضل کی بے توقیری ہمارا وطیرہ بن گیا ہے۔ شکیل اعوان اس دگرگوں صورت حال کو دیکھ کر کیسے چشم پوشی کر سکتا ہے۔۔۔۔
آواز کا "کاسہ” لیے پھرتا ہے پریشاں
اس شہر میں فنکار کو روٹی نہیں ملتی

یہ الگ بات تجھے پڑھنے کی فرصت نہ ملے
ہم ترے شہر میں "اخبار” بنے پھرتے ہیں

معدوم ہوتی ہوئی قدروں کا المیہ ہو یا جدید زندگی کی یکسانیت، عصری تغیرات ہوں یا عہد رفتہ کی سادہ و حسین زندگی، شہری زندگی کے گھمبیر مسائل ہوں یا گاؤں کے شہر میں بدلنے کا آشوب۔۔۔۔۔۔ شکیل اعوان ان سب کو اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے۔
جب سے نکلا ہوں اپنے گاؤں سے
دھوپ سے آ گیا ہوں چھاؤں میں

آن پربات آجاتی ان کی اگر،جان دے دیتے تھے،بات رکھ لیتے تھے
پاس داران مہر و وفا لوگ تھے، ہائے کیا لوگ تھے

آباد ہے خوابوں میں جو بستی، نہیں ملتی
مدت سے خبر شہر کی اچھی نہیں ملتی

آواز کا کاسہ کے شاعر نے "تکرار مضامین” سے حتی الوسع گریز کیا ہے۔ کلاسیکی غزل کے مضامین، تصوف کا بیان، سیاسی و سماجی مسائل، داخلی کیفیات، عہد رفتہ کی یادیں، نئے تہذیبی ماحول میں انسان کی بے مائیگی اور تنہائی ۔۔۔۔ الغرض شکیل اعوان نے ہر طرح کے مضامین کو نہایت خوبصورتی سے متنوع بحروں کو استعمال کرتے ہوئے IMG 20220621 173553 696IMG 20220121 175540 684شعروں کی زینت بنایا ہے۔

پھر بنا لیجیے گا ہمیں
پہلے مٹی تو نم کیجیے

دنیا اسے بھی بادہ کشی جانتی رہی
زہر غم حیات جو پیتا رہا ہوں میں

شوق منزل ہے تو پھر زاد سفر کم کر لے
راستہ زیست کا آسان بھی ہو سکتا ہے

یہ لگ رہا ہے ہواؤں میں محو رقص ہوں میں
وہ لے کے ہاتھ میں یوں میرا ہاتھ رقص میں ہے

زندگی کی سلگتی ہوئی دھوپ میں ، سائباں کی طرح، آشیاں کی طرح
حبس میں جیسے چلتی ہوا لوگ تھے، ہائے کیا لوگ تھے

شاعری کے ساتھ ساتھ آج کل شکیل اعوان کے تیکھے کالم بھی سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہیں۔ اس جانب شکیل اعوان کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔۔ نیز میں اپنا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر دھرا دیتا ہوں کہ یار دیرینہ شکیل اعوان کو اپنی آپ بیتی ضرور لکھنی چاہیے۔

اللہ پاک توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے آمین
۔۔۔۔۔۔۔
راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481