اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دیہات کے سرکاری سکولوں کے معیار تعلیم میں کیسے بہتری لائی جائے؟

سب سے پہلے تو ہمارے سامنے سوال کے اندر ہی کئی اور سوالات پنہاں ہیں۔۔ یعنی سرکاری سکولوں کے معیار تعلیم کا موازنہ کسی اور سکول کے معیار تعلیم سے ہو رہا ہے۔۔ اور ہمارے ذہن میں کوئی نہ کوئی معیار تعلیم ہے جس کے برابر ہم سرکاری سکولوں کے معیار تعلیم کو لانا چاہتے ہیں۔

تو کیا ہم سرکاری سکولوں کا موازنہ پرائیویٹ سکولوں سے کر رہے ہیں؟۔ وہ کون سا معیار تعلیم ہے جو ہمارے ذہن میں ہے؟ کیا پرائیویٹ سکولوں کا معیار تعلیم واقعی بلند ہے، کیوں کہ وہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے؟ کیا انگریزی سیکھ لینے سے بچے واقعی اعلی تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں کیوں کہ انھیں ملازمت ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟ کیا تعلیم کو مکمل طور پر مادی ترجیحات کے تابع کرنا درست طرز عمل ہے؟

معیار تعلیم پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا پڑے گا کہ ہمارے سامنے تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہم مکمل طور پر مادی نکتہ نظر سے تعلیم کی غرض و غایت کے قائل ہیں تو پھر معاملہ بہت آسان ہے۔۔ ہمیں روبوٹ نما ڈاکٹر، انجینئیر، کاروباری افراد اور معاشیات دان پیدا کرنے ہیں۔۔ جو عالمی حالات اور معاملات پر گہری نظر رکھتے ہوں اور دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں۔

لیکن یاد رہے کہ انسان ایک مادی کے ساتھ ساتھ
روحانی و اخلاقی وجود بھی رکھتا ہے۔۔ اگر ہم روحانی وجود کو یکسر نظر انداز کر دیں گے تو جس مادیت پرستی کی بے رحمی کا آج ہم رونا رو رہے ہیں اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج شدت آتی جائے گی۔۔

دنیا کے سبھی ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ پرائمری سطح تک بچوں کو تعلیم ان کی مادری زبان میں دینے سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔۔ بچوں کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جو کچھ انھیں پڑھایا جاتا ہے وہ اس کی مکمل تفہیم کے قابل ہوتے ہیں۔ کیونکہ نئی نسلوں تک اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور ورثہ کی منتقلی ایک اہم فریضہ ہے۔ اس لیے نئی نسلوں کو اپنی ماں بولی سے روشناس کروانا ضروری ہے۔

اگر آپ جاپان کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو وہاں پرائمری کی سطح تک کوئی کتاب نہیں پڑھائی جاتی۔۔ بلکہ بچوں کو اخلاقی سطح پر اس قابل بنایا جاتا ہے کہ: ۔

۔ وہ تحمل و برداشت کا نمونہ ہوں
۔ وہ سب کے ساتھ مل کر رہیں
۔ وہ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے پرہیز کریں
۔ محنت و مشقت کو عار نہ سمجھیں
۔ وہ اپنی انفرادیت کو سمجھیں اور اس کی قدر کریں
۔ نفرت اور غصہ انسانی نہیں حیوانی افعال ہیں۔ اس لیے ان سے بچیں
۔ سکول ہو یا گلی،۔ سڑک ہو یا پارک سب اس اس علاقے کے باسیوں کے لیے ان کے گھر کی طرح ہیں۔ اس لیے ان کا خیال بھی ایسے ہی رکھیں جیسے اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔

بچوں کی یہ ساری تربیت ان کی مادری زبان میں کی جاتی ہے۔ جاپان ٹیکنالوجی میں ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے۔ وہ معاشی طور پر ہم سے بہت زیادہ مضبوط ہے۔۔ وہ چاہیں تو اپنے بچوں کو پرائمری سطح تک تمام بڑی زبانیں سکھا دیں۔۔ لیکن انھوں نے قوموں کے عروج و زوال کا جائزہ لےکر یہ سبق حاصل کیا ہے کہ جو لوک اپنی شناخت سے کٹ جاتے ہیں، تاریخ کے صفحات میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

اگر ہم تنقیدی جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو اپنی زبان، ثقافت اور ورثے کے حوالے سے شعوری طور پر احساس کمتری کا شکار کیا گیا۔۔ ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پرائمری تک تعلیم مادری زبان میں دی جائے تاکہ پر اعتماد، تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور اور اپنی شناخت سے جڑے لوگ کل کی باگ دوڑ اس طرح سنبھالیں کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہوں اور اپنی تاریخ، ورثے اور روایات و اقدار کے بھی امین ہوں۔ لیکن ہمارے ہاں سکول داخل ہونے سے پہلے ہی بچوں کو اپنی مادری زبان یعنی شناخت کی بنیادی اکائی سے محروم کرنا ناگزیر خیال کیا جاتا ہے۔۔

سکولوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے بزم ادب کا سلسلہ بہت اہم کردار ادا کرتا تھا۔۔ لیکن اسے بھی غیر ضروری قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔

مشاہیر تاریخ پاکستان کے حوالے سے بھی میڈیا پر بیٹھ کر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے بے ضمیر خود ساختہ صحافی ایسی ایسی بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ سن کر خون کھول اٹھتا ہے۔۔ علامہ اقبال جیسے قومی ہیرو کو اگر دو ٹکے کا مضافاتی شاعر کہا جائے اور پورے ملک میں کسی کو بھی حرف احتجاج بلند کرنے کی جرات نہ ہو تو ہمیں اپنے کل کے بارے میں ضرور تشویش مند ہونا چاہیے۔

اب تو آرٹس اور سوشل سائنسز سے قطع تعلق کر کے سکولوں کالجوں میں ہم صرف پیور سائنس پڑھانے لگے ہیں۔۔ افسوس۔۔۔

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

ہمیں سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ مقصد تعلیم کیا ہے۔

اصل کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ ہم طلبا کی انفرادی صلاحیتوں کی جانچ پرکھ کریں اور ان کو پروان چڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔۔ اس کے لیے صرف اساتذہ نہیں والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اساتذہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ سرکاری ملازمت نہیں کر رہے بلکہ وہ قوم کے معمار ہیں اور ایک مقدس پیشے سے
تعلق رکھتے ہیں۔

طلبا کو حسن اخلاق کا نمونہ ہونا چاہیے۔

بچوں کو گریڈ، نمبروں اور پوزیشن کی دوڑ سے نکال کر آپس میں پیار محبت کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی فضا قائم کرنے کے لیے ہمیں بچوں کے اندر یہ ایقان و ایمان پختہ کرنا ہو گا کہ ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے خالق کائنات نے اس دنیا میں بھیجا ہے

کسی کو گرا کر ، اور روند کر آگے بڑھ جانے کو کامیاب ہونا یا جیت جانا نہیں کہتے۔۔ بلکہ یہ سب سے بڑی شکست اور انسانیت کی توہین و تذلیل ہے۔۔ کوئی گر جائے تو اسے بڑھ کر اٹھا لینا ہی اصل کامرانی ہے۔

بچوں کو مل بانٹ کر کھانا سکھائیں۔۔ انھیں باور کروائیں کہ ہوس اور خود غرضی حیوانی افعال ہیں۔

نمبروں اور گریڈ کے بارے میں استفسار کرنے کے بجائے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں سے روزانہ سکول واپسی پر پوچھیں

آج کوئی جھوٹ تو نہیں بولا
آج کس کس کی مدد کی ؟
آج لنچ اکیلے تو نہیں کھایا
رستے میں چلتے ہوئے سب کو سلام کیا
آج کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی

سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے وہاں متعین اساتذہ کرام کی فہرست بنائی جائے۔ جس میں ان کی تعلیمی استعداد، پیشہ ورانہ تعلیم اور تجربہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی درج ہو کہ انھوں نے آخری پیشہ ورانہ تربیت کب حاصل کی تھی۔

دوسرا کام یہ ہے کہ ہر سکول کی کل آسامیاں اور تعینات اساتذہ کی تفصیل جمع کریں۔ تاکہ خالی اسامیوں کے بارے میں معلوم ہو اور ان کو پر کرنے کے لیے جدو جہد کی جائے۔

تیسرے اساتذہ اور والدین کی کمیٹیاں بنائی جائیں جس میں علاقے کے تعلیم یافتہ لوگوں، خصوصا ماہرین تعلیم، کو شامل کریں۔ ان کمیٹیوں کے اجلاس کم سے کم مہینے میں دو بار ہوں۔

اساتذہ سکولوں میں غیر موجود سہولیات کی فہرستیں کمیٹیوں کو مہیا کریں۔۔ تاکہ ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

علاقے میں موجود پرائیویٹ سکولوں سے بھی جہاں تک ان کے بس میں ہو تعاون کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

پیشہ ورانہ تربیت کے سلسلے میں کمیٹیاں محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے وسائل سے بھی انتظامات کریں۔ اس سلسلے میں معروف سکولوں سے ٹیچرز ٹریننگ کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ والدین کو باور کرایا جائے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم میں دل چسپی لیں گے تو نہ صرف ان کا بچہ کارآمد شہری اور اچھا انسان اور مسلمان بنے گا بلکہ ملک وقوم کا مستقبل تاب ناک ہو گا۔

معیار تعلیم کے حوالے سے ماہرین تعلیم اساتذہ کے ساتھ مل کر معیار مقصود کا تعین کریں۔۔ اور باہمی رضامندی اور تعاون سے اس تک رسائی کے لیے ہر ممکن سعی کریں۔

اساتذہ اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں کہ انھیں ایک قومی فریضہ سر انجام دینے کا موقع ملا ہے۔۔ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور اپنی توانائیاں استعمال کر کےطلبا کی بھرپور رہنمائی کریں۔ تاکہ متعین کردہ ہدف کا حصول ممکن ہو سکے۔

طلبا کی انفرادی صلاحیتوں کی کھوج اور ان کے نکھار کے لیے ہر طالب علم پر والدین اور اساتذہ بھرپور توجہ دیں۔ کوئی بھی طالب علم صرف اسی صورت میں تعلیمی میدان میں ترقی کرے گا جب اسے اپنی پسند کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لیے طلبا کی پسند ، ناپسند ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔

اپنے علاقے کے وہ اساتذہ جو شہروں کے بڑے اور معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں ان کو مربوط کر کے اور واٹس ایپ گروپ بنا کر ان کے علم و تجربے سے بھی گاؤں کے سرکاری سکولوں کے طلبا کو مستفید کرنا چاہیے۔

اپنے علاقے کی ایسی نابغہ روزگار شخصیات جنھوں نے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیے ان سے طلبا کو ملاقات کا موقع دینا چاہیے تاکہ ان سے مل کر طلبا کے جذبے اور حوصلے مہمیز ہوں۔

ہر تین ماہ بعد ایک جائزہ رپورٹ تیار کی جائے تاکہ رفتار کار کا جائزہ لیا جا سکے۔۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا اور اساتذہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔

طلبا کے لیے سال میں کم سے کم چار سٹڈی ٹورز کا اہتمام کیا جائے۔

کھیلوں کے لیے سہولیات اور مقابلوں کا اہتمام بھی ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔

بزم ادب کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ طلبا کو لکھنے لکھانے کی طرف بھی راغب کیا جائے۔۔ خصوصی طور پر انھیں اپنی ماں بولی میں لکھنے پڑھنے کی تربیت فراہم کریں تاکہ وہ اپنی شناخت سے جڑ کر احساس کمتری سے نجات
حاصل کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راشد عباسی
rashed_abbasi@yahoo.com


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481