اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل کیسے گرایا؟ نئے انکشافات

پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل کیسے گرایا؟ نئے انکشافات

پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل کیسے گرایا؟ نئے انکشافات

برطانوی اخبار کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 مئی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ کو جدید دور کی سب سے بڑی فضائی جنگ تھی جس میں 110 کے قریب طیاروں نے حصہ لیا، اس معرکے کا مرکز پاکستان کی چینی ساختہ جے 10 سی طیارے اور بھارت کے جدید فرانسیسی رافیل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدود میں اہداف پر حملہ کیا تو پاکستانی ایئر چیف مارشل ظاہر احمد بابر سدھو پہلے ہی کئی دنوں سے ممکنہ بھارتی حملے کے پیش نظر آپریشن روم میں ہی سو رہے تھے۔ جیسے ہی بھارتی طیارے ریڈار پر نمودار ہوئے ایئر چیف نے فوری طور پر جے 10 سی طیاروں کو روانہ کیا اور انہیں رافیل کو خاص طور پر نشانہ بنانے کا حکم دیا۔

اس حوالے سے ایک سینیئر پاکستانی افسر نے بتایا کہ ایئر چیف کو رافیل چاہیئے تھے، پاکستانی جے 10 سی طیارے PL15 میزائل سے لیس تھے جو چین کا تیار کردہ ایک جدید ترین لانگ رینج ایئر ٹو ایئر میزائل ہے۔

بھارت کے پائلٹس کو یقین تھا کہ وہ پاکستانی میزائل کی رینج 150 کلومیٹر سے باہر ہیں مگر اصل میں وہ میزائل تقریباً 200 کلومیٹر دور سے فائر کیا گیا اور ایک رافیل طیارے کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔

برطانوی نے امریکی حکام کے حوالے سے تصدیق کی کہ ایک رافیل واقعی گرایا گیا جس کے بعد فرانسیسی کمپنی ڈاسوٹ کے حصص کی قیمت میں کمی دیکھی گئی، انڈونیشیا جو رافیل خریدنے والا ایک ممکنہ ملک تھا اب چینی جے 10 سی خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

پاکستان نے ایک مربوط ’کِل چین‘ سسٹم استعمال کیا جس میں فضائی، زمینی اور سیٹلائٹ ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو ایک نیٹ ورک میں جوڑ کر مکمل صورت حال پر کنٹرول حاصل کیا گیا، پاکستانی سسٹم ’ڈیٹا لنک 17‘ نے چینی اور سویڈش ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے طیاروں کو بغیر ریڈار آن کیے دشمن کے ریڈار سے بچنے میں مدد دی۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481