نالہ لئی میں کٹاریاں پر پانی کی سطح 16 فٹ، گوالمنڈی پل پر 14 فٹ تک پہنچ چکی ہے ۔ نشیبی گلیاں، انڈرپاسز اور رہائشی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔۔ نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے، ہائی الرٹ پر پانی نکاسی کے عملے اور مشینری تعینات کی گئی ہے ۔محکمہ موسمیات اور واسا نے نشیبی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے کے باعث فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ریسکیو 1122، واسا، سول ڈیفنس اور وفاقی ادارے ہائی الرٹ ہیں، اور ضرورت پڑنے پر پاک فوج کو امداد کے لیے طلب کیا جائے گا ۔ زمینی اور فضائی استطاعت کے ساتھ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24–48 گھنٹوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، بالائی پنجاب، کشمیر، خیبرپختونخوا میں مزید شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔ شہریوں کو احتیاط کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہری نشیبی اور پانی گیر علاقوں میں نہ جائیں؛ بارش کے دوران بیٹھے رہنے سے گریز کریں ۔اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کریں، خاص طور پر بچوں کو بجلی کے اےریاز سے دور رکھیں۔ چھتیں اور کمزور گھر غیر محفوظ ہو سکتے ہیں—ایسی جگہوں میں قیام سے گریز کریں۔
گزشتہ شب ٹوئن شہروں میں 105 ملیمیٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔کچھ ذرائع میں 170 ملیمیٹر کی رپورٹز بھی سامنے آئی ہیں، جیسا کہ پنجاب کے دیگر حصوں میں ریکارڈ ہوا ۔ یہ عدد غالباً چند علاقوں (مثلاً لاہور یا اوکاڑہ) کے گنجائش میں شامل ہے، جبکہ ٹوئن شہروں کا درست ریکارڈ 105 ملیمیٹر ہے۔
کسی خطرناک صورتحال میں ریسکیو 1122، PDMA ہیلپ لائن (1129) یا واسا رابطہ نمبر پر فوری رابطہ
