اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی بھیجی گئی سمری پر صدر مملکت نے دستخط کردیے جس کے بعد قومی اسمبلی اور کابینہ تحلیل ہوگئی۔

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے

میڈیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی تحلیل کے لیے کچھ دیر قبل صدر مملکت کو سمری ارسال کی تھی جسے ڈاکٹر عارف علوی نے منظور کرلیا۔

نگراں وزیراعظم کی تقرری تک شہبازشریف بطور وزیر اعظم امور انجام دیتے رہیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں ہزارہ ایکسپریس کے پہئے تکنیکی خرابی سے جام ہوئے

دوسری جانب آئین کے مطابق نگراں وزیراعظم کی تقرری کیلیے وزیراعظم شہباز شریف 10 اگست کو قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے ملاقات کریں گے اور دونوں فریقین نگراں وزیراعظم کیلیے تین تین نام پیش کریں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں ایشیا کپ اور افغانستان سیریز کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا

 

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے حوالے سے جمعرات کو ہونے والی ملاقات کو حتمی راؤنڈ کہا جارہا ہے۔

اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگراں وزیراعظم کی تقرری میں کامیاب نہ ہوئے تو

پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا اور اگر وہاں بھی اتفاق نہ ہوسکا

تو الیکشن کمیشن نگراں وزیراعظم کی تقرری کا فیصلہ کرے گا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شہباز نے کہا تھا

کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد تین دن کے اندر نگراں وزیراعظم کی تقرری کا اختیار آئین دیتا ہے،

امید ہے کہ مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481