اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قسط 4 _ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

landscape 3 2 1751130998652 1

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(چوتھی قسط)

گاؤں کی زندگی کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کیسے کی جائے۔ لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کہ گاؤں کے گاؤں افلاس کے شکنجے میں تھے۔ نئے کپڑے عید پر ہی نصیب ہوتے تھے (کئی لوگ ایسے بھی تھے جو عید پر بھی یہ اہتمام کرنے سے قاصر تھے). اکثر لوگ پلاسٹک کے چپل یا جوتے استعمال کرتے تھے اور پھر انھیں بھی پھٹنے کے باوجود جب تک وہ ناقابل استعمال نہ ہو جاتے استعمال میں رکھتے تھے۔ گھروں میں لوگ جانور اور مرغیاں پالتے تھے، اس لیے خالص ڈیری مصنوعات (دودھ، دھی، لسی، مکھن، دیسی گھی) اور دیسی انڈے سب کو دستیاب تھے۔ پکانے کا تیل اور بناسپتی گھی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ چینی کے بجائے شکر یا گڑ کا استعمال عام تھا۔ نمکین چائے بھی بہت لوگ پیتے تھے۔

جب مکھن کو پگھلا کر دیسی گھی بنایا جاتا تو برتن کی تہ میں مکھن کی جو باقیات ہوتی تھیں ان میں گندم کے آٹے کا اضافہ کر کے حلوہ بنایا جاتا تھا۔ جسے مقامی زبان میں "باٹ” یا "داہدے” کہا جاتا تھا۔

کچھ گھروں میں سویاں بنانے والی مشین بھی ہوتی تھی۔ یہ ویسی ہی مشین تھی جیسی آج کل قیمہ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ایک مشین پورا محلہ عاریتا لے کر استعمال کر لیتا تھا۔ مشین کو چارپائی کے ساتھ نصب کر دیا جاتا۔ دیسی گندم کا خاص ترکیب سے گوندھا ہوا آٹا سویاں بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ آٹا مشین میں ڈال کر دستی کو گھمایا جاتا تھا۔ اس طرح مشین کے نیچے سے سویاں برآمد ہوتیں جو آج کل دستیاب سویوں کے مقابلے میں کافی موٹی ہوتی تھیں۔ دوسری چارپائی پر صاف چادر بچھا کر تیار سویاں خشک ہونے کے لیے پھیلا دی جاتی تھیں۔ یوں کافی مقدار میں سویاں تیار کر کے رکھ کی جاتی تھیں۔ پکاتے وقت پہلے سویوں کو ہلکا سا بھونا جاتا تھا۔ پھر انھیں ابال کر پانی گرا دیا جاتا۔ اب سویوں کو مکھن یا دیسی گھی میں پکایا جاتا۔ میٹھے کے لیے شکر یا چینی استعمال کی جاتی تھی۔

ایک اور مرغوب پکوان "میٹھی گوغیاں” یا "پکوان” تھا۔ اس کے لیے بھی دیسی گندم کا آٹا استعمال ہوتا تھا۔ لیکن ان کا آٹا گوندھنا مقابلتا مشکل تھا۔ ایک تو آٹے میں پانی کے بجائے شیرے کا استعمال ہوتا تھا، لہذا میٹھے کا تناسب درست رکھنے کے لیے گڑ یا شکر کی مقدار مناسب کا تعین ضروری تھا۔ دوسرے اس میں زیرہ، سونف، بادام، مونگ پھلی وغیرہ کا بھی اضافہ کیا جاتا تھا۔ خمیر کے لیے میٹھا سوڈا استعمال ہوتا تھا اور اس کی مقدار کا بھی خیال رکھا جانا ضروری تھا۔ دن کو آٹا گوندھ کر رکھ دیا جاتا۔ شام تک آٹے میں خمیر کے آثار نمودار ہو جاتے تھے۔ اس آٹے کے چھوٹے چھوٹے پیڑے بنا لیے جاتے تھے، جنھیں تلتے وقت ہاتھ سے یا بیلن کی مدد سے چھوٹی چھوٹی گوگیوں میں تبدیل کر دیا جاتا۔ سرسوں کے تھیل کو پہلے کڑاہی میں گرم کر کے میٹھا کیا جاتا تھا۔ پھر اسی تیل میں پکوان تلے جاتے۔ کڑچھوں کے بجائے اکثر گھروں میں ایک صاف درانتی کپڑے میں ملفوف رکھی ہوتی تھی، جس کی مدد سے گوگیوں کو پلٹایا جاتا تھا اور تلی ہوئی گوگیوں کو تیل سے باہر نکال کر ایک بڑی ٹوکری "کھاری” میں رکھا جاتا ہے۔ پکوان کی تیاری والے دن ہمارے گھر میں پڑوسی خواتین کا میلہ سجتا تھا۔ لڑکیاں آٹے کی گڑیاں اور پھول بنا کر کڑاہی میں ڈال دیتیں۔ آپس میں ہنسی مذاق ہو رہی ہوتی۔ پکوان تیار ہونے پر چائے تیار کی جاتی اور گرما گرم پکوان چائے کے ہمراہ جی بھر کے کھائے جاتے۔

کیونکہ سارے لوگ زراعت کے ساتھ وابستہ تھے اس لیے مختلف قسم کی سبزیاں مفت میں دستیاب ہوتی تھیں۔ ملکوٹ میں آلو، چیغن (گول ٹماٹر)، پھلیاں، بھنڈی، توری، کدو، چالیں اور مٹر وغیرہ سبھی لوگ کاشت کرتے تھے۔ پھلیاں خشک کر کے رکھ لی جاتیں جنھیں سردیوں میں دال کے طور پر استعمال کیا جاتا۔ پیلے کدو بھی کئی کئی مہینوں تک استعمال کیے جاتے تھے۔ عموما ان سے لسی والا ساگ اور "اوریا” جیسی ڈشیں بنائی جاتی تھیں۔

کچھ درختوں کی کونپلیں بھی لسی والے ساگ میں استعمال ہوتی تھیں۔ ان میں سب سے اہم پھگواڑی (دیسی انجیر) کے پتے تھے، جنھیں پھغولا کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ کلیاڑ (کچنار ) کے پھول بھی لسی میں پکائے جاتے تھے۔

 

گاؤں کی زندگی اس وقت خواتین کے لیے بھی آسان نہ تھی۔ وہ صبح کی نماز سے فراغت کے بعد پہلے جانوروں کی دیکھ بھال کرتیں۔ جانوروں کے کمرے کو "کہوال” کہا جاتا تھا۔ کہوال کی صفائی کا بھی باقاعدہ نظام تھا۔ جانوروں کے لیے کہوال سے باہر بھی باندھنے کا انتظام تھا۔ جانوروں کو باہر باندھنے کے بعد سب سے پہلے گوبر کو اٹھا کر کھیت میں پہلے سے موجود ڈھیر پر پھینکا جاتا۔ پھر کھکھل کی باریک شاخوں سے بنے جھاڑو (جسے مانجھا کہا جاتا تھا) کی مدد سے صفائی کی جاتی تھی۔

ہاتھ اچھی طرح دھو کر، صاف ستھری بالٹی میں دودھ نکالا جاتا جو صبح کی چائے کے علاوہ مہمانوں کی چائے میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ شام کو جو دودھ نکالا جاتا وہ صبح کے بچے ہوئے دودھ (اگر کچھ دودھ پس انداز ہو جاتا) سمیت مٹی کے ایک برتن (ڈولے) میں جمع کر دیا جاتا۔ دو تین دن کے بعد ڈولے میں موجود دودھ جم کر دھی بن جاتا۔ اب اسے گلنی میں ڈال کر، بیچ میں مدھانی رکھ کر اور اوپر کڑھ رکھ دیا جاتا۔ مدھانی کے گرد میترٹی (رسی یا چمڑے کا ٹکڑا) لپیٹ کر اسے دونوں ہاتھوں سے گھمایا جاتا۔ ساتھ میں تھوڑا سا پانی بھی شامل کرتے رہتے تھے۔ اس طرح دھی سے لسی بن جاتی، جس پر مکھن کی موٹی تہہ ہوتی۔ مکھن کا پیڑہ بناکر نکال لیا جاتا جسے کسی دوسرے برتن میں محفوظ کر لیا جاتا اور ناشتے میں بچوں کو "چپڑی بھی اور دو دو بھی” بھی کھانے کا موقع ملتا۔ اگر مکھن جمع ہو جاتا تو اسے ابال کر دیسی گھی بنا لیا جاتا تھا۔

گاؤں میں پانی کے چشمے آبادی سے خاصے فاصلے پر تھے۔ خصوصا جب موسم گرما میں ہم تہارہ، کھن، ڈنہ (بہکاں) منتقل ہوتے تو وہاں کافی دور سے پانی لانا پڑتا تھا۔ اس وقت عورتیں سلور کی گڈویاں سروں پر رکھ کر پانی لایا کرتی تھیں۔ پانی کے چشمے (ناڑہ، کٹھا، باولی، مولاچھ) کو بہت متبرک سمجھا جاتا تھا۔ عورتیں چشمے سے کافی فاصلے پر جوتے اتار دیتی تھیں۔ اس وقت لوگ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ وہ پانی کے بارے حقائق سے آگاہ نہیں تھے لیکن بڑوں کی تربیت کی وجہ سے پانی کے چشمے کو مسجد کی طرح صاف ستھرا رکھا جاتا تھا۔

ہمارا گھر چونکہ گزر گاہ سے متصل تھا اس لیے گزرنے والے اکثر لوگ پانی پی کر ہی جاتے ہیں۔ گاؤں کی اکثر عورتوں کی والدہ محترمہ کے ساتھ علیک سلیک تھی اس لیے ہر دن درجن بھر لوگوں کے لیے چائے بھی بنائی جاتی۔ ہاں یہ آج کی طرح لوازمات اور تکلفات کے بغیر گائے بھینس کے دودھ سے بنی شکر والی چائے ہوتی تھی۔

(جاری)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481