آئی جی پنجاب عثمان انور نے انکشاف کیا ہے کہ جڑانوالہ فسادات کے مرکزی ملزم بیرون ملک فرار کی تیاری مکمل کر چکے تھے، کیونکہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔
آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ واقعات سوچی سمجھی سازش کے تحت کرائے گئے، اور فسادات میں ملوث مرکزی ملزمان واقعے سے پہلے ہی بیرون ملک کے ٹکٹ کٹوا چکے تھے۔
نجی ٹی وی کے مطابق آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ فی الوقت براہ راست بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہمسایہ ملک میں خواتین سے زیادتی کے واقعات سے توجہ ہٹا کر رخ پاکستان کی طرف موڑا گیا، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بیرونی ہاتھ ملوث ہونے پر تفتیش کرے گی۔
آئی جی نے انکشاف کیا کہ فسادات کی آڑ میں ملتان میں پادری کو قتل کرنے کی سازش بھی کی گئی ، انہوں نے پولیس کی اب تک کی کارروائی کے بارے میں بتایا کہ مرکزی ملزمان سمیت 130 سے زائد افرادکو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 170 افراد کو نادرا کی مدد سے شناخت کر لیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ 6 ہزار کے قریب افراد کا مجمع تھا، پولیس روکنے کی کوشش کرتی تو بڑے جانی نقصان کا اندیشہ تھا۔

