اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جعفر ایکسپریس کے واقعے پر آج پوری قوم اشکبار اور غمزدہ ہے

جعفر ایکسپریس کے واقعے پر آج پوری قوم اشکبار اور غمزدہ ہے

 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے پر آج پوری قوم اشکبار اور غمزدہ ہے، ایسا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی رونما نہیں ہوا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کارروائی کرکے 339 یرغمالیوں کورہا کروایا جبکہ 33 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ،اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، گورنر وزیر اعلی بلوچستان کے علاوہ وفاقی وزراء عطا تارڈ،احسن اقبال ،امیر مقام ، مصطفی کمال ،خالد مگسی ،حنیف عباسی ، رانا ثناء اللہ،سابق نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ ،نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ دیگر سول و فوجی حکام نے شرکت کی ،وزیراعظم نے کہا کہ تین دن پہلے بولان میں دہشت گردوں نے ایک ٹرین جس میں 400 سے زائد پاکستانی سفر کر رہے تھے انہیں یرغمال بنایا اور متعدد کو شہید کردیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ویرانے میں مسافر بے یار و مددگار بیٹھے تھے، ٹرین میں فوجی جوان بھی موجود تھے، دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی بنائی گئی ،دہشت گردوں کو رمضان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا ذرا بھی خیال نہیں آیا، ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آیا اور اس ویرانے میں بے یار و مددگار مسافر بیٹھے ہوئے تھے جو عید منانے کے لیے پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کی طرف جا رہے تھے، ان میں فوجی جوان بھی شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو رہا کردیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو  ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو پاکستانیوں کی جانوں کو بچانا تھا اور دہشتگردوں کا بھی خاتمہ کرنا تھا، وہاں پر خودکش بمباروں نے اپنے گھیرے میں رکھا ہوا تھا، ہم سب کو اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جنرل عاصم منیر کی لیڈرشپ میں اور کور کمانڈر کوئٹہ کی مکمل سرپرستی میں اور درجہ بدرجہ جو اس کام کے لیے یونٹس مامور تھے، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایم او ڈائریکٹوریٹ اور جو ضرار کمپنی ہے، جو ایسے ہی لوگوں کو جہنم رسید کرنے کیلیے تیار کی گئی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو مشترکہ اسکیم بنائی، الحمد اللہ اس کے نتیجے میں 339 ہمارے پاکستانیوں کو چھڑوایا گیا، اور 33 دہشتگردوں کو  ہلاک کیا گیا، ابھی 2، ڈھائی گھنٹے کی پریزنٹیشن ہوئی ہے، اس کے بعد ہم ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے گئے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ ضرار یونٹ جو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے، اس کے افسروں اور جوانوں سے میں نے خطاب کیا اور ان سب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنی طرف سے، حکومت پاکستان کی طرف سے اور 24 کروڑ عوام کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا، اور ان کی جرات، جواں مردی اور ان کی دلیری کی تحسین کی،ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم نے ان بے رحم درندوں سے ان معصوم پاکستانیوں کی جان چھڑالی، مگر خدانخواستہ پاکستان کسی ایسے دوسرے حادثے کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ہمیں سب کو مل کر اپنا حصہ ڈالنا ہے، بلوچستان کی حکومت، بلوچستان کے اکابرین کو، بلوچستان کے عوام کو اور صوبہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کو مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کی مکمل طور پر تحسین کروں گا، بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی جب تک باقی صوبوںکے ہم پلہ نہیں ہوگی، میں بلاخوف تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی، پاکستان کی خوشحالی نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اسی طریقے سے جب تک کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو گیا تھا اور 80 ہزار پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا، معیشت کو 30 ارب ڈالر کا تباہ کن نقصان پہنچا اور نواز شریف اس وقت وزیراعظم تھے، افواج پاکستان کی عظیم قربانیوں سے، عام شہریوں کی قربانیوں سے یہ امن قائم ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا؟ اس کا سر کچلا جا چکا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی پوائنٹ اسکورنگ میں جائے بغیر، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں کہ جو طالبان سے اپنا دل کا رشتہ جوڑتے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انہوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481