ایف بی آر نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بڑا ریلیف دے دیا۔ چیئرمین نے ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کے دو بڑے مطالبات پر تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ریئل اسٹیٹ کا مطالبہ تھا کہ غیر منقولہ جائیداد سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ختم کیا جائے اور فی الحال جائیدادوں کی ویلیوایشن ٹیبل پر کوئی نظر ثانی نہ کی جائے۔اور اگر اس میں اضافہ ناگزیر ہو تو پھر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرکے منصفانہ طور پر اضافہ کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ و ریونیو اسحاق ڈار کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو کے چار اگست کو ہونے والے 90 ویں اجلاس کے دوران رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز سے متعلق ٹیکسیشن کے مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی روشنی میں ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ نے کی جس میں فیڈریشن آف ریئلٹرز پاکستان کے صدر سردار طاہر محمود کی سربراہی میں ایک وفد اور ایف بی آر کے افسران نے شرکت کی۔
ریئلٹرز کے وفد نے معیشت کی خراب صورت حال کے پس منظر میں غیر منقولہ جائیداد پر عائد ٹیکسیشن کو معقول بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا ذریعہ رہا ہے تاہم ابتر معاشی حالات کی وجہ سے لوگ اب اس شعبے میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ مزید برآں فنانس ایکٹ 2022 اور فنانس ایکٹ 2023 کی رو سے غیر منقولہ جائیداد پر متعارف کرائے گئے ٹیکسوں کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لئے حوصلہ شکن ماحول پیدا ہوا ہے۔
وفد نے تجویز پیش کی کہ غیر منقولہ جائیداد سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ختم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی لحال جائیدادوں کی ویلیوایشن ٹیبل پر کوئی نظر ثانی نہ کی جائے۔اور اگر اس میں اضافہ ناگزیر ہو تو پھر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرکے منصفانہ طور پر اضافہ کیا جائے۔
چیئرمین ایف بی آر نے شرکاء کو یقین دلایا کہ اُن کے تحفظات کو دور کیا جائے گا اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔اُنہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں رئیلٹرز کے ساتھ مناسب ہم آہنگی اور مشاورت کو یقینی بنائیں۔
چیئرمین نے مزید نشاندہی کی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت اس وقت ٹیکس میں کوئی نئی چھوٹ، رعایت یا ترجیحی ٹیکس کی سہولت ممکن نہیں ہے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔


