اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

پنجابی غزل

Picsart 23 04 14 09 21 59 399

رانا سعید دوشی 4 اپریل 1965 کو پھلروان، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان قیام پاکستان کے وقت ہریانہ، ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ رانا سعید دوشی نے ایل ایل بی کے علاوہ پنجابی میں ماسٹر ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی مشاعروں میں شرکت کرتے بلکہ مشاعرے لوٹتے ہیں۔ رانا سعید دوشی کا پہلا شعری مجموعہ “زمیں تخلیق کرنی ہے ” 2006 میں شائع ہوا اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
ان کے کئی شعر اور غزلیں زبان زد عام ہیں۔

 

تو جو دیتا نہ آسرا مجھ کو
یہ جہاں مار ڈالتا مجھ کو

۔۔۔۔۔۔۔۔

آج نہ جانے دوں گا تجھ کو اپنی آنکھ سے باہر
دھاڑیں مار سمندر ، چاہے ٹھاٹھیں مار سمندر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشق کے نام پہ خیرات بھی لے لیتے ہیں
یہ وہ صدقہ ہے جو سادات بھی لے لیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوق شہادت میں مارا جاؤں گا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پنجابی غزل

گجھیاں سٹاں جر کے روئے
سفنے وچ ڈر ڈر کے روئے

بانہواں کھلیاں کر کر کوکے
گوڈیاں وچ سر دھر کے روئے

تاڑی مار کے سجن ہسے
ویری اکھاں بھر کے روئے

اندروں کنڈی مار کے تڑفے
اندروں اندری مر کے روئے

ہاڑے، تھل دے سینے ساڑے
پربت پربت ٹھر کے روئے

بدل گجے، روح نئیں رجے
وچ چنھاواں تر کے روئے

حال دہائی، جگت ہنسائی
جت کے ہسے، ہر کے روئے

ساہنوں عشق روایا دوشی
خورے اوہ کیہ کر کے روئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رانا سعید دوشی، ٹیکسلا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481