Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ

سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوگئیں

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف شہروں میں جانی و مالی نقصان کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی یروشلم میں دھماکوں اور آگ بھڑکنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بھی بیان کی گئی ہے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔

خلیجی خطے میں بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اٹھنے کی اطلاعات ملیں جس کے بعد سفارتخانے کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی ہدایات جاری کی گئیں۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عراق کے خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ادھر لبنان میں صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف باقاعدہ جارحانہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر کے مطابق راکٹ حملوں کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ لبنانی حکام نے بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان میں جانی نقصان کی تصدیق کی ہے، تاہم مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے ملک کو کسی وسیع فوجی تصادم سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سیاسی محاذ پر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران واشنگٹن سے بات چیت نہیں کرے گا۔ ان کا بیان امریکی اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا۔

دوسری جانب امریکی فضائیہ کا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ مبینہ طور پر کویت میں گر کر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ کے محفوظ رہنے کی اطلاع ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

قبرص میں برطانیہ کے فوجی اڈے ایکروٹری پر بغیر پائلٹ ڈرون حملے کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے محدود نقصان ہوا۔ یورپی یونین نے قبرص کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ اردن نے حالیہ حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بعض بڑے دعوے بھی کیے ہیں، جن میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا ذکر شامل ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران میں اہداف پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے اور ملک میں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مختلف ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481