اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● Iranian FM Araghchi Leaves Islamabad for Moscow ● Islamabad Scrambles to Revive Stalled US-Iran Peace Talks ● پنجاب میں بڑے روڈزکو ٹریفک کیلئے ماڈل بنانےکا فیصلہ ● پاکستان نے ایران کیلئے تجارتی راستہ کھول دیا ● امارات میں صنعتی شعبے کیلئے ایک ارب درہم کا پیکیج ● ایئرپورٹس اتھارٹی کاالیکٹرک کارٹ سروس متعارف کرانےکا فیصلہ ● بیروٹ کی حفصہ وقار عباسی کا ایک اور اعزاز ● پاکستان زندہ باد کے نعرےلگانے والے شفیق واہگہ انتقال کرگئے

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کیا۔ یہ 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے جو ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔

علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے، اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن بھی شہید ہو گئی تھیں، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

مجلس خبرگان نے اپنے بیان میں ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی قیادت کی حمایت کریں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہیں ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عام طور پر عوامی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز بھی نہیں سنی۔

گزشتہ کئی برسوں سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری سے ایران میں خاندانی طرز کی قیادت کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت سے مشابہت رکھتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای پر ماضی میں ایرانی حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے دبانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران جب متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔

فی الحال ایران میں شدید جنگی صورتحال کے باعث اطلاعات کا بہاؤ محدود ہے اور حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث نئی قیادت سے متعلق مزید تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481