اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔

FaceApp 1707328750973 1

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

میری پیدائش ضلع ایبٹ آباد ، سرکل بکوٹ کے ایک دور افتادہ گاؤں ملکوٹ میں ہوئی۔  ملکوٹ اس وقت بجلی، سڑک، ہسپتال، ہائی سکول جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھا (ہائی سکول اور صحت کی سہولیات کی اب بھی یہی صورت حال ہے). گاؤں کے لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ ہر گھر میں جانور پالنا معمول تھا۔ مرغیاں بھی ہر گھر میں موجود تھیں۔ اکثر لوگ سردیوں میں گاؤں میں جب کہ گرمیوں میں بہکاں (بلند مقام) قیام کرتے۔ سبزیاں اور دالیں عام کاشت کی جاتیں۔  پھل دار درخت بھی عام تھے۔ سیب کے باغات لوگوں کے لیے اچھی آمدن کا بھی ذریعہ تھے۔

پرائمری سکول ملکوٹ ہال نما ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ دراصل یہ ٹین کی چادروں سے بنی ایک بیرک تھی جس کے فرش نہ صرف کچے تھے بلکہ غیر ہموار بھی۔ سکول مسجد کے بالکل قریب واقع تھا۔ بچے پہلے مسجد میں ناظرہ قرآن پڑھتے اور پھر سکول آ جاتے۔ مسجد سے نیچے اتریں تو رستے کے دائیں طرف سکول کا چھوٹا سا میدان تھا۔ میدان کے سرے پر درخت تھے جن کی چھاؤں میں میدان بھی اوپن کلاس روم بن جاتا۔ خصوصا آخری پیریڈ میں پہاڑے میدان میں ہی بیٹھ کر پڑھے جاتے اور پھر چھٹی کی گھنٹی بجنے پر بچے وہیں سے باہر کی سمت بھاگ کھڑے ہوتے۔

images 1
دراصل یہ سکول ملکوٹ کے محسن و مربی منشی نبی صاحب کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ تھا اور شاید انہی کی زمین میں بنا تھا۔ وہ ملکوٹ کے پہلے معلم تھے۔ پورے علاقے پر ان کا احسان ہے کہ انھوں نے اس علاقے میں علم کی شمع روشن کی۔ اللّٰہ پاک ان کو غریق رحمت فرمائے ۔

سکول میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ کا انتظام تھا لیکن ان کی تعداد ناکافی تھی۔ صبح سویرے ان ٹاٹوں کو ڈنڈوں کی مدد سے ضربیں لگا کر صاف کیا جاتا تھا۔ سکول یونیفارم ملیشیا کے قمیص شلوار اور کالی ٹوپی پر مشتمل تھا، جو چھٹی کے وقت تک گرد و غبار کی وجہ سے سفید ہو چکا ہوتا۔ سکول میں دو اساتذہ تعینات تھے جو کافی دور سے تشریف لاتے۔ اس لیے کم ہی ہوتا کہ دونوں اکٹھے سکول آئیں۔ شاید انھوں نے آپس میں دن بانٹے ہوئے تھے۔ اس لیے باری باری سکول آتے۔
پہلی سے پانچویں تک ہر کلاس کو اردو، حساب اور سائنس پڑھائی جاتی تھی۔ سائنس بھی نہ ہونے کے برابر تھی، بس اردو اور حساب ہی دو مضامین تھے۔ حساب کے سوالات سلیٹ پر سلیٹی کی مدد سے حل کیے جاتے اور اردو کی لکھائی پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ اس کے لیے روزانہ کلک کی قلم کے ساتھ تختی لکھی جاتی تھی۔ آخری پیریڈ میں مل کر پہاڑے پڑھے جاتے تھے۔

FB IMG 1627067203186 1
ہمارے استاد محترم نثار صاحب کا تعلق کہو ، سرکل بکوٹ سے تھا۔ کیونکہ ابھی سڑک تعمیر نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ روزانہ کہو سے ملکوٹ تشریف لاتے۔ تھوڑی سی سخت طبیعت تھی۔ ان دنوں مولا بخش (لاٹھی) کے استعمال پر پابندی نہیں تھی۔ نیز سکول میں بچوں کو مرغا بنانا بھی اساتذہ کا مرغوب مشغلہ تھا۔ سو پرائمری سکول ملکوٹ کو بھی اس ضمن میں کوئی استثناء حاصل نہیں تھا۔

آخری پیریڈ تھا۔ ماسٹر نثار صاحب کی گرج دار آواز گونجی۔ آج سب بچے بیٹھ کر 6 کا پہاڑہ صحیح سے یاد کریں۔ میں کسی کا بھی امتحان لے سکتا ہوں۔ بچوں نے 6 کے پہاڑے کے بجائے آیت الکرسی اور تیسرے کلمے کا ورد شروع کر دیا۔ نثار صاحب گراؤنڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہل رہے تھے اور کچھ گنگنا رہے تھے۔ اچانک ان کی آواز تھوڑی بلند ہو گئی۔۔۔۔
چلو دلدار چلو
چاند کے پار چلو
گھنٹی بجانے پر مامور بچے نے اسے چھٹی کا اشارہ سمجھتے ہوئے توا نما گھنٹی پر ضربیں داغ دیں۔ نثار صاحب نے چلا کر کہا ابھی چھٹی نہیں ہوئی لیکن رستے کے قریب بیٹھے بچے تب تک کئی فرلانگ فاصلہ طے کر چکے تھے۔

(پہلی قسط)

راشد عباسی۔۔۔ ملکوٹ، ہزارہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481