اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

نرگس کے پھول ۔۔۔ ولیم ورڈزورتھ کی شاہکار نظم

624fed44 9791 4d27 a1d6 051093d19cc3

ولیم ورڈزورتھ

ایک آدھ بار قریبی دوستوں کی طرف سے مشورہ ملا بھی کہ ترجمہ کرنا ہے تو کچھ نئے اور اہم شاعروں ادیبوں یا ڈسکورسز کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے لیکن اس نیچر کے شیدائی نے تین دہائیوں سے دل پر قبضہ جما رکھا ہے ۔۔۔۔ وہ انوکھے دن تھے ایک چھوٹی سی اکیڈمی سے باہر دنیا جیسے جھپٹنے کو تیار بیٹھی رہتی اور اندر ایک سیلن زدہ کمرے میں ایک دھان پان استاد The Prelude پڑھاتا رہتا۔۔۔۔ کبھی کبھی باہر بارش کی جھنکار بجتی سوندھی خوشبو دل مٹھی میں دبائے لیک ڈسٹرکٹ کی ڈھلوانوں پر پھسلتی رہتی کچھ اس طرح کہ برسوں بعد اس گداز دل شاعر کی بستی اس کے گھر اور اس کی آخری آرامگاہ سے گزر ہوا تو کچھ اجنبی نہ لگا۔۔۔۔ اور پھر یہ نظم سارا سال ارد گرد خوشبو اڑاتی اور نرگس کے پھول اگاتی رہتی ہے۔۔۔۔ پہلا سٹینزہ کچھ برس پہلے ترجمہ کیا تو آگے ہمت نہ پڑی خالص حسن کو کاغذ پر اتارنا کوئی آسان بات نہیں اور پھر چند روز پہلے بیک گارڈن میں اپنے آپ نہ جانے کس ترکیب سے ایک نرگس کا پھول بغیر بیج دبائے پانی دیے لہلہانے لگا۔۔۔۔ اٹھتے بیٹھتے کھڑکی سے گردن جھکائے کسی سوچ میں ڈوبا۔۔۔۔ ترجمہ مکمل ہو گیا ایک دنیا ایک اور دنیا کے ہونٹوں سے سانس لے سکی یا نہیں اس کا فیصلہ فاضل دوستوں کے ہاتھ۔۔۔۔ مجھے تو اپنا ڈیفوڈل راضی کرنا تھا اور بس۔۔۔۔

نرگس کے پھول
۔۔۔۔ ترجمہ۔ گلناز کوثر۔۔۔۔۔263e1df8 0f63 4c03 9b6f 12ded8da4044برطانیہ میں مقیم نامور پاکستانی شاعرہ

اکیلا چلا جا رہا تھا
یونہی ایک آوارہ بادل کے مانند بہتا ہوا
وادیوں اور پہاڑوں میں
جب دفعتاً میں نے دیکھا درختوں تلے
جھیل کے ایک جانب
سنہری بدن زرد نرگس کے پھولوں کی اُس بھیڑ کو
نرم ٹھنڈی ہوائوں میں پَر کھولتے ، رقص کرتے ہوئے۔۔۔
دور نظروں کی حد سے پرے
جھلملاتی ہوئی کہکشاؤں کے جیسے
مری اک نظر میں سمائے ہزاروں کہ جن سے لدی تھی وہ کھاڑی۔۔۔
سروں کو جھکائے ہوئے
جھیل کی دھیمی لہروں کے آہنگ کو
مات دیتے ۔۔۔ مگن ۔۔۔۔زندگی سے بھرے ۔۔۔ جھومتے، لہلہاتے ہوئے۔۔۔
دل مرا اس گھڑی
اک مسرت میں گُم تھا۔۔۔۔
میں تکتا رہا اور تکتا رہا
دیر تک دور تک سوچتا غور کرتا ہوا
ایسے نایاب منظر سے بڑھ کر خزانہ
کہیں اور کوئی نہ ہوگا۔۔۔۔
زمانہ ہوا آج بھی
شام آتی ہے مٹھی میں دابے ہوئے جب اداسی۔۔۔۔
تو بےزار۔۔۔ بےکیف لمحوں کے الجھے ہوئے ڈھیر میں
تب یکایک چمکتا ہے
پھولوں بھرا یہ نظارا
مرے دل کو تھامے ہوئے
مسکراتا ہوا
رقص کرتا ہوا۔۔۔۔

The Daffodils
….William Wordsworth….

I wandered lonely as a cloud
That floats on high o’er vales and hills,
When all at once I saw a crowd,
A host, of golden daffodils;
Beside the lake, beneath the trees,
Fluttering and dancing in the breeze.
Continuous as the stars that shine
And twinkle on the milky way,
They stretched in never-ending line
Along the margin of a bay:
Ten thousand saw I at a glance,
Tossing their heads in sprightly dance.
The waves beside them danced; but they
Out-did the sparkling waves in glee:
A poet could not but be gay,
In such a jocund company:
I gazed—and gazed—but little thought
What wealth the show to me had brought:
For oft, when on my couch I lie
In vacant or in pensive mood,
They flash upon that inward eye
Which is the bliss of solitude;
And then my heart with pleasure fills,
And dances with the daffodils.

William Wordsworth


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481