اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

آئیے کوہسار کو عظیم الشان بنائیں

کوہسار عطائے ایزدی ہے۔ ہم اہل کوہسار اپنی خوش قسمتی پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ گزشتہ دو تین عشروں میں عاقبت نا اندیش اور ہوس زر کے مارے طبقے نے جس میں آٹے میں نمک کے برابر مقامی لوگ بھی شامل ہوں گے اس جنت ارضی کا چہرہ بری طرح مسخ کیا ہے۔ لہذا کوہسار کا اصلی چہرہ بحال کرنے کے لیے ہر مسئلے کا "مستقل” حل تلاش کرنا چاہیے خواہ اس میں زیادہ وقت کیوں نہ لگ جائے۔

اگر ہم سنجیدہ ہیں تو ہمیں باتوں سے نہیں عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم مہذب لوگ ہیں۔ کوئی خاندانی شخص بد اخلاقی، بدکلامی اور بدتہذیبی کیسے کر سکتا ہے؟۔

جتنے مافیاز ہیں ان کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی اور ان کا قلع قمع کرنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون ہی نہیں انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا ہو گا۔

ایم ڈی ایف، آر ڈی ایف، انتظامیہ، مری بار کونسل اور دیگر فعال تنظیموں کو لائحہ عمل طے کر کے مری میں ہوٹل اور ریسٹورینٹ کے کاروبار میں پروفیشنل، پڑھے لکھے، باشعور اور دیانت دار لوگوں کو لے کر آنا ہو گا۔ تاکہ مقابلے کی فضا قائم ہو اور نئے لوگ پروفیشنلزم کی روش عام کریں تاکہ سیاحوں کی شکایات کا ازالہ ہو۔

کسی بھی فرد کی پہچان کی بنیادی اکائی اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ پہاڑی زبان کی بقا اور فروغ کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اب تک کی گئی انفرادی کوششوں سے بلا مبالغہ بہت تبدیلی آئی ہے۔ احساس کمتری کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ پہاڑی زبان اساں نی پچھان نے انفوٹینمنٹ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔

لیکن ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کو مٹنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ ناگزیر اقدامات کیے جائیں۔۔۔

✓ اس کے بولنے والے احساس کمتری سے نکلیں اور نئی نسلوں کو اپنی مادری زبان سکھائیں

✓ پرائمری تک بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دینے کا حق آئین پاکستان بھی دیتا ہے۔ سندھی، پشتو، بلوچی وغیرہ کی صورت میں اس کی عملی صورت بھی ہمارے سامنے ہے۔ کوہسار میں کم سے کم ہم ایک مضمون کے طور پر پہاڑی زبان پڑھانے کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جس سے دور رس تبدیلیوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔

✓ ایک مضمون کے طور پر پڑھانے کے لیے پہاڑی زبان کی کتب ہم چند مہینوں میں تیار کر سکتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے احباب نے پہلے ہی آٹھویں جماعت تک کے لیے کتب چھاپ رکھی ہیں۔

اگر یہ انقلابی فیصلہ ہو جائے تو پورے کوہسار میں ہمیں کتنے اساتذہ درکار ہوں گے؟ نیز اس کے ساتھ ساتھ اس ایک چھوٹی سی سرگرمی کے ساتھ کتنی معاشی سرگرمیوں کا انسلاک ہو جائے گا۔

✓ تحریری کام تواتر سے ہو۔ ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی ہو۔۔ اور کیا گیا کام کتابی صورت میں شائع ہو تا کہ جامعات تک پہنچے اور طلبا اسے اپنی تحقیق کا موضوع بنائیں۔

✓ اخبارات اور رسائل کی اشاعت ہو تاکہ اس زبان میں لکھنے والے تجربہ کار تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کی ایک کھیپ تیار ہو۔

✓ ریڈیو، ٹی وی، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھی اس زبان کو فروغ دیا جائے۔

✓ پہاڑی زبان کی اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پنجاب میں مری آرٹس کونسل میں عارضی دفتر کا قیام فورا عمل میں لایا جائے۔ مستقل ادارے کے قیام کو تین سال کے اندر مکمل کیا جائے۔۔ کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس پہاڑی زبان سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں ان سے ایک وفد کی صورت میں مل کر کشمیر میں پہاڑی زبان کی اکیڈمی کے قیام کی تجویز پیش کی جائے۔۔ سب سے آسان اور منطقی دلیل خیبر پختونخوا حکومت کو دی جا سکتی ہے۔ وہاں تین بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں، پشتو، ہندکو اور پہاڑی۔ اول الذکر دونوں کے فروغ کے لیے حکومت نے ادارے بنائے ہیں اور فنڈز مہیا کرتی ہے تو تیسری کے لیے کیوں نہیں؟ خصوصا ہزارے کے لوگوں کو غیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق کے لیے لڑنا چاہیے

کوہسار کو آپ عظیم الشان خطہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں ایک شہر علم کی بنیاد رکھ دیں۔۔ مین سڑک سے ہٹ کر قدرتی حسن کی حامل سستی زمین حاصل کریں۔ سڑک کی سہولت موجود ہو۔ ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنا کر چھوٹے چھوٹے ولاز تعمیر کریں۔ تمام سہولیات کو یقینی بنائیں (گروسری سٹور، ریسٹورینٹ، کمیونٹی ہال، انڈور گیمز، بچوں کے لیے پلے ایریا، جنریٹر، رینٹ اے کار) ۔ انتظامی امور سوسائٹی اپنے پاس رکھے۔۔ گیٹڈ کمپاؤنڈ مکمل سیکورٹی انتظامات کا حامل ہو۔

کل لاگت پر دس فی صد منافع لگا کر ملک بھر کی نابغہ روزگار شخصیات کو بیچ دیں۔ علم و دانش کے متعینہ معیار سے ہٹ کر کوئی ولا فروخت نہ کیا جائے۔ چند سالوں میں اہل علم و فضل کے وجود کی برکت سے ان شاءاللہ نئی نسل میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی

ایک وفد کی صورت میں ارباب اختیار و اقتدار سے ملیں اور ان کو تجویز پیش کریں کہ شہر علم سے نزدیک ایک "شہر حکمت” (ایجوکیشن سٹی) قائم کریں۔ اس میں تمام اعلی کارکردگی کے حامل تعلیمی اداروں کو ایک ایک کنال کا پلاٹ لیز پر دیں جس پر تعمیراتی کام وہ دو سال میں مکمل کریں۔ نیشنل بنک اور بنک آف پنجاب بلا سود قرضے کی بھی سہولت فراہم کرے۔ دو ہزار پچیس میں کم سے کم دس تعلیمی ادارے یہاں تدریسی سرگرمی کے ساتھ موجود ہوں۔

ایجوکیشن سٹی میں کھیل کے میدان، کیفے ٹیریا، لائبریری، ہاسٹل اور دیگر تمام سہولیات سینڑالائزڈ ہوں۔۔ تعلیمی ادارے صرف اپنے معیار تعلیم پر توجہ دیں۔ ایجوکیشن سٹی کے انتظامی امور کے لیے ایم ڈی ایف، آر ڈی ایف، انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی متفقہ کمیٹی کے ذریعے قابل، تجربہ کار اور دیانت دار لوگوں کا تقرر کیا جائے۔

کوہسار کے تمام پرائیویٹ اور حکومتی تعلیمی اداروں میں فروغ فکر اقبال کے لیے بھرپور انتظامات کیے جائیں۔ ہماری نوجوان نسل کے سامنے واضح مقصد حیات کا ہونا از بس ناگزیر ہے۔ آج بدقسمتی سے ہماری سعی و جہد انسان کے مادی وجود کی ضروریات کی تسکین کے لیے وقف ہو گئی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زوال کے پاتال میں اتر گئے ہیں۔ فکر اقبال سے انسلاک ہماری نئی نسل کو خود آگہی کی طرف راغب کرے گا۔ انھیں مقصد زندگی کا شعور دے گا۔ انھیں معلوم ہو گا وہ کس فلک کے ٹوٹے ہوئے تارے ہیں۔۔ اور سب سے بڑھ کر انھیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہو گا کہ۔۔۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی، یا مرد کوہستانی

ایک اور ناگزیر کام تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا احیاء ہے۔ روزانہ کی اسمبلی ہو، بزم ادب ہو، ماہانہ گرینڈ پروگرام ہو یا یوم والدین کا سالانہ پروگرام۔۔ ان سے طلبا میں لیڈرشپ کوالٹی پیدا ہوتی تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سکولوں کے ذمہ داران کی توجہ اس طرف فوری طور پر مبذول کروائی جائے۔۔ اس سلسلے میں انٹر سکولز مقابلے بھی منعقد کیے جائیں۔

ہمارے ہاں سپورٹس کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وفد اس سلسلے میں بھی حکومت کو اقدامات کرنے پر مجبور کرے تاکہ ہماری نئی نسل کے سامنے منفی کے بجائے مثبت سرگرمیاں موجود ہوں جن کے لیے وہ اپنی صلاحیتیں وقف کر کے علاقے، خاندان اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔

آؤٹ ڈور سپورٹس کے لیے ایک تو جگہ زیادہ درکار ہوتی ہے اور موسم بھی اکثر پروگرام کو سبوتاژ کر دیتا ہے۔۔ اگر مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے سپورٹس کمپلیکس اور جم (لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علاحدہ) بنا دیے جائیں تو ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، سکواش، وغیرہ کے لیے ہماری نئی نسل میں سے قومی اور بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیار کیے جا سکتے ہیں۔۔ اس سلسلے میں سارے تعلیمی اداروں کو بھی انڈور گیمز کے لیے سپیس مختص کرنے کا پابند بنانا چاہیے۔

اس کے علاوہ آر ڈی ایف کے منصوبوں کو پورے کوہسار تک پھیلانے سے ایک عشرے کے اندر کوہسار خوراک کے معاملے میں نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ ملک کے دیگر علاقوں کوبھی آرگینک فوڈ جیسی نعمت سے مستفید کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راشد عباسی
اپنی آراء سے ضرور نوازیں
03458566708
Screenshot 20220610 183755 3


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481