اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● ایران حملے میں زخمی امریکی فوجی دم توڑ گیا ● نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ● مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ● دفاتر ہفتے میں 4 روز کھلیں گے،سکول31 مارچ تک بند ● پاک بحریہ کا آپریشن محافظ البحر شروع ● برطانیہ سے اڈے نہ ملنے پر ٹرمپ مایوس ● مشرقِ وسطیٰ بھر میں میزائل حملے اور ہائی الرٹ نافذ ● آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی انتقال کرگئیں

"جہانِ ابد” کے رنگ

Picsart 25 12 02 21 30 13 079

 

"جہانِ ابد” کے رنگ

راشد عباسی ایک بیدار مغز، غیر روایتی اور ترقی پسندانہ سوچ کے حامل شاعر اور دانشور ہیں، جن کا تعلق مری کی بلند و بالا سر زمین سے ہے۔ ان کا تازہ ترین نظمیہ مجموعہ ”جہانِ ابد“ ۲۰۲۵ء میں شائع ہونے والے اردو نظمیہ مجموعوں میں اس لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے کہ شاعر نے خود اس کے مشمولات کو ”عام آدمی کی نظمیں“ قرار دیا ہے، اور واقعی یہ کتاب عام انسان کے معمولات ، مسائل اور ضروریات کا آئینہ بن گئی ہے۔ یہ اور بات کہ راشد عباسی کے خیال میں عام آدمی کی ضروریات محض آب و دانہ اور آشیانہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ اسے زندگی کو احسن طریقے سے گزارنے کے لیے دنیا کے معاشی اور معاشرتی نظام میں اپنا حصہ چاہیئے اور اس سے بھی بڑھ کے فطرت اور اس کے سکون بخش عناصر سے شفقت کی توقع بھی انسانی سرشت میں شامل ہوتی ہے۔

ترقی پسندانہ فکر سے یہ تاثر بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید مجموعے میں شاعری کم اور جذباتی ابال یا احتجاج آمیزی زیادہ ہو۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ کتاب معاصر شعری معیارات کا خیال رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے بلکہ موضوعاتی گہرائی اور فکری پختگی اسے اور زیادہ اہم اور قابل توجہ بناتے ہیں۔ علامات و استعارات کا کماحقہ استعمال بھی ملتا ہے، جس سے تاثیر میں یوں اضافہ ہوا ہے کہ بعض نظمیں یا ان کی سطور دل پر نقش ہو جاتی ہیں۔

ایک طرف ”عہدِ زوال“، ”انکار“، ”درد بے درماں“ اور ”نفرتوں کی دلدل میں“ جیسی نظمیں سماجی و سیاسی زوال، ظلم و نا انصافی اور اجتماعی برائیوں کی عکاس ہیں تو دوسری طرف ”عزمِ مصمم“، ”جہانِ ابد“، ”آگہی کے دیے“، ”خواب“ اور ”وصیت“ جیسی نظموں میں بولڈ اور احتجاجی فکر زیادہ غالب ہے اور امید افزائی بھی ہے۔

”کربِ فراقِ ذات“، ”ہم کہاں آ گئے“، ”کم نصیبی“ اور ”تفسیرِ حیات“ انسانی آلام کو شخصی سطح پر شدت سے پیش کرتی ہیں۔ بعض نظمون جیسے ”خدا محبت ہے“ اور ”اسرارِ حیات“ میں روحانی احساسات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

مختصر نظمیں بھی اپنی جگہ موثر اور موقر ہیں۔

کتاب میں ذیلی موضوعات کا یہ تنوع حیرت انگیز ہے اگرچہ خیال کی مرکزی رو انہی آفاقی اہمیت کے حامل نکات کے قریب قریب رہتی ہے ۔ ”استعفیٰ“ ، ”انقلابِ زمانہ“ اور ”انتباہ ” بھی بڑے کینوس کی نظمیں ہیں اور زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ یہاں نظم ” جہانِ ابد” کا خصوصی تذکرہ بھی کرنا چاہیئے جس پر اس مجموعے کا نام بھی رکھا گیا ہے کہ اس نظم کا مواد شاعر کے مجموعی نظریہ فکر و حیات کے زیادہ قریب لگتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ راشد عباسی نے ” جہانِ ابد” کے ذریعے جدید اردو نظم کے شاعر کے طور پر ایک نیا جنم لیا ہے۔ نئے دور کے حساس قاری کے لیے یہ کتاب ایک تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں اس کی اشاعت پر راشد عباسی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

رحمان حفیظ ۔۔۔ اسلام آباد


 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481

Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (1) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481